اندھیرے میں پہلی ملاقات ( حال)

86 8 7
                                        

آہستہ آہستہ اس کے حواس بحال ہو رہے تھے ۔اسے جلد ہی اس بات کا اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ کہاں تھی ۔اسپتال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کمرے میں مکمل اندھیرا اور دور سے آتی ہوئی اذان کی آواز فجر کے وقت کا پتہ دیتے تھے ۔ کل صبح کا منظر اسے یاد آیا کہ کس طرح اس کی دنیا ہی پلٹ گئی تھی ۔۔۔۔۔
وہ کتنی خوش تھی اپنی اٹھارویں سالگرہ پر ۔۔۔ اور پھر جس انداز میں اسے اپنی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت کا پتہ چلا تھا وہ اس جھٹکے سے سنبھل ھی نہیں سکی اور اب وہ اسپتال کے بستر پر لیٹی خود کو رونے سے روکنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔
اندھیرے سے باتیں کرنا اور مختلف باتوں پر چھپ کر رونا اس کی پیدائشی عادت تھی مگر اس وقت وہ تنہا نہیں رہنا چاہتی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس وقت اسے کوئی مظبوط سہارا نا ملا تو وہ مر جائے گی اور کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا ۔۔۔۔
اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور کوئی وزنی چیز فرش پر رکھنے کی آواز آئی اور پھر کسی نے پوری طاقت سے اسے خود میں پھینج لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نا کوئی جملہ نا آواز بس وہ اسے گلے لگائے ہوئے تھا ۔
وہ پہلی بار مل رہے تھے۔ جانتی تھی کہ وہ کون تھا
اسے وہ پچھلے 24 گھنٹوں سے جانتی تھی ۔
اور وہ۔۔۔۔؟؟ وہ تو اسے پچھلے 18 سالوں سے جانتا تھا ۔اس پل سے اسے اپنا سب کچھ سمجھتا تھا جس پل سے وہ اس دنیا میں آئی تھی ۔
عجیب بات یہ تھی کہ وہ پہلی بار مل رہے تھے مگر ان کے انداز میں تکلف نام کی کوئی چیز نہ تھی اور وہ پر سکون تھے۔ صبح کا سویرا اب ہر طرف پھیلنے لگا تھا چند لمحوں بعد وہ اس سے دور ہوا اور کچھ بھی کہے بغیر اپنا بیگ اٹھا کر چلا گیا۔ وہ تو اس کا چہرہ بھی نہ پائی تھی اور وہ چلا بھی گیا
وہ تو چلا گیا مگر اس کی خوشبو وہ اب بھی محسوس کر رہی تھی۔ یہ کتنی عجیب بات تھی کہ وہ اس انسان سے مل کر ہی ٹھیک ہوئی تھی جس کی وجہ سے وہ اس حال کو پہنچی تھی۔ کیا واقعی وہ اس کی حالت کا ذمہ دار تھا یا پھر کوئی اور تھا جس کی وجہ سے وہ آج اس حالت کو پہنچ گئی تھی بہرحال اب وہ پرسکون تھی تو پتا ہی نہیں چلا کہ کب وہ پھر سے نیند کی وادیوں میں کھوگئی مگر سونے سے پہلے اس کے دماغ میں یہی بات گردش کر رہی تھی کہ ایسی کون سی وجوہات تھیں جن کی بنا پر اس کے ساتھ یہ ظلم کیا گیا تھا۔

تہہ در تہہStories to obsess over. Discover now