علینہ فاروق کے قلم سے؛
#قسط نمبر 1
شطرنج
درد سے بلکتے ہوئے شخص کی سسکیاں اس پورے کمرے میں گونج رہی تھیں ۔کمرہ میں سوائے دو جانداروں کے ہر چیز بے جان چیزوں تھی ۔کمرہ کے ایک حصہ کی دیوار جدید ترین اور خوبصورت اسلحے سے بھری ہوئی تھی۔
اس کے سامنے والی دیوار پر کچھ پراسرار پوسٹرز لگے تھے ۔
جن میں زیادہ تر تصاویر قاتل اور مقتول کے درمیان مناظر کی عکاسی کیے ہوئے تھیں ۔تیسرے حصہ والی دیوار پر سات مختلف اور خوبصورت لڑکوں کی مسکراتی ہوئے تصاویر تھیں۔ جن میں سے دو لڑکوں کی تصاویر پر سرخ رنگ کے گہرے مارکر سے کراس کا نشان لگایا گیا تھا۔کمرے کے آخری اور چوتھے حصہ کی دیوار پر کچھ بھی نہ تھا نہ کوئی اسلحہ نہ کوئی تصویر بلکہ سفید رنگ کی سادہ دیوار پر جابجا خون کے چھینٹے لگے تھے۔ ایسے جیسے کسی انسان کے جسم پر تیز رھاری جیسی چیز سے کٹ لگایا جائے اور پھر اس کے خون کی دھار سیدھی اس دیوار پر آئے ۔
اور آج-------آج ان خون کے چھینٹوں میں اضافہ ہو رہا تھا ۔
کوئی چیخ رہا تھا، چلا رہا تھا۔مگر-----نہ تو اس کمرے
کی بے جان چیزوں پر کوئی کچھ فرق پڑ رہا تھا اور نہ ہی سامنے بیٹھے اس شخص پر جو کسی تیز رھاری والے بلیڈ سے اس کے ماتھے پر کوئی لفظ گھڑ رہا تھا۔بنا تاثر کے چہرہ لیے وہ پراسرار انسان جس نے کالے رنگ کی تنگ شرٹ پر مہرون لیدر جیکٹ اور چہرہ پہ کالا ماسک لگا کر اسے ڈھانپا ہوا تھا ،سکون اور اطمینان سے کسی تیز رھاری جیسی چیز سے اس کے ماتھے پر کچھ بنا رہا تھا۔
"خدا کے لیے -------خدا کے لیے مجھے چھوڑ دو"التجائی آواز میں، کرسی سے بندھا ہوا وہ سر مئی رنگ کی شرٹ میں ملبوس لڑکا گڑ گڑا رہا تھا، رو رہا تھا،بلک رہا تھا ۔
مگر سامنے والے پہ رتی برابر اثر نہیں ہو رہا تھا ۔ایسے جیسے اس کے کانوں تک کوئی آواز پہنچ ہی نہیں رہی ۔۔۔بے تاثر چہرہ لیے وہ اپنے ہی کام میں مگن ۔
"رحم کرو---ر----رحم-----کرو مجھ-----پہ----پلیز----۔چھوڑ دو مجھے "خوبصورت مگر کانپتی ہوئی آواز میں وہ لڑکا گڑ گڑایا۔جس کی آنکھوں پہ کالے رنگ کی پٹی بندھی تھی مگر ماتھے کی شکنوں سے درد کی شدت کا خوب اندازہ ہوتا تھا۔(اگر کوئی دیکھتا تو)۔
"ت----تم---رحم کرو----مجھ پہ" آواز جیسے دور کہیں اندر سے آئی ۔
"رحم-----"سامنے بیٹھے ہوئے شخص نےان سب لمحوں میں پہلی بار جیسے بے بسی کے عالم میں وہ لفظ دہرایا۔آنکھوں میں پہلے ذرا حیرت اور پھر سختی در آئی ۔
"انسان رحم نہیں کرتا-----" اس لڑکے کی تھوڑی کو تیز چاقو کی نوک سے ذرا اوپر اٹھاتے ہوئے بڑی سختی سے اس نے کہا۔
"رحم مانگنا ہے تو خدا سے مانگو،انسان کبھی رحم نہیں کیا کرتے " بڑی سہولت سے کہہ کر سامنے والے شخص نے چاقو پیچھے کیا۔
YOU ARE READING
شطرنج
Mystery / Thrillerیہ کہانی تجسس سے بھرپور ہے جو اپنے اندر مزاح ،سنسنی،تھرل جیسے بے شمار چیزیں سمیٹے ہوئے ہے۔
