حاصل کی تردید
لاحاصل کی جستجو...!!
زندگی کی بعض محرومیوں کو پر کرنے کے چکر میں ہم زندگی کا اصل مقصد بھول جاتے ہیں....
ہم اس راہ پہ نکل پڑتے جہاں سوائے خسارے کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔۔۔
تب ہمارے پاس سوائے ملال کے کچھ نہیں بچتا....
اس بےرنگ دنیا میں عارضی تسکین کے حصول کی جستجو میں ہم بھول جاتے ہیں کہ ہماری زندگی کا اصل مقصد کیا ہے۔۔؟؟ اور اس کی حقیقت کیا ہے....
اس فانی دنیا ہم کس لئے بھیجے گئے ہیں کیونکہ ہمیںیہ خودغرض دنیااپنی چمک میں اس قدر الجھا دیتی ہے کہ ہم وہ راستہ ہی بھٹک جاتے ہیں جو ہمیں حقیقی تک کی رسائی دیتا ہے...
جو ہمیں ہمارے اصل سے روشناس کرواتا ہے اور ہمیں صحیح اور غلط کی پہچان کرواتا ہے اور ہماری نجات کا باعث بنتا ہے...
اسی طرح میں بھی اس دنیا میں کامیابی اور اپنا نام بنانے کے بھنور میں پھنستا یہ بھول گیا کہ کون سی درست سمت ہے اور کو ن سی غلط....
میرا مختصر سا تعارف یہ ہے کہ میں "ثاقب احمد" ایک گاؤں کا باشندہ.... ماں باپ کا اکلوتا تھا اور ان کی منتوں مرادوں کی اولاد تھا.... انھوں نے مجھے پڑھایا لکھایا اس قابل بنایا کہ میں اس دنیا میں کھڑا ہونے کے قابل ہوا...
میرے ماں باپ چونکہ سیدھے سادے لوگ تھے کم پہ گزارہ کرنے والے مگر حلال کھانے والے.....
ساری زندگی انھوں نے مختصر پہ گزارہ کیا اور مجھے بھی کروایا ........
مگر مجھے اپنی محرومیوں کو دور کرنا تھا مجھے زیادہ کی چاہ تھی, کچھ حاصل کرنا تھا بلکہ یہ کہنا بہتر ہوگا مجھے جائزوناجائز طریقے سے امیر ہونا تھا اس گاؤں کی زندگی سے چھٹکارا پانا تھا....
پھر کیا تھا جب میں اس قابل ہوا کہ میں اب اکیلا کچھ کرتا سکتا ہوں تو اپنے ایک دوست کے وسیلے سے شہر میں کاروبار کرنے کا مشورے ملا.....
اس کی بات نے مجھے سوچنے پہ مجبور کر دیا مگر اپنے ماں باپ کا سوچتا تو الجھ جاتا کہ وہ پیچھے تنہا ہو جائیں گے....
انھوں نے مجھے ہر سردو گرم سے محفوظ رکھا اور اب میں ان کے بڑھاپے میں انھیں تنہا نہیں چھوڑ سکتا تھا.....
اوپر سے وہ میری شادی کے متعلق سوچ رہے تھے اس ساری کشمکش میں وقت کا بہت ضیاع ہو رہا تھا جبکہ مجھے جلد از جلد شہر جانا تھا وہاں کی زندگی دیکھنی تھی.... اسے جینا تھا.....
خیر سے شادی نبٹا کہ مناسب موقع اور وقت دیکھتے میں نے اپنے والدین سے اپنی خواہش کا اظہار کیا....
پہلے تو وہ اداس ہوئے مگر جب میں نے مثبت پہلوؤں پہ زور دیا اور باتوں باتوں میں جتا دیا کہ میں ہر حال میں جانا چاہتا ہوں تو انھوں نے بوجھل دل کے ساتھ آمادگی کا اظہار کیا....
مجھے پہلے پہل تو ان کی دلآزاری کی فکر ہوئی اور ضمیر نے بھی جھنجھوڑا کہ
"جس کام میں ماں باپ کی رضا نہ ہو اس میں برکت نہیں ہوتی..."
مگر میں ان آوازوں کو ان سنا کیا اور شہر جانے کے منصوبے بنانے لگا...
پھر وہ دن بھی آیا جب میں شہر کے لئے روانہ ہوا....
میری ماں اور بیوی اداس تھیں مگر ابو نے ناجانے کس جگروحوصلے کے ساتھ خیر سے جانے اور واپس آنے کی دعاؤں میں سائے میں رخصت کیا
______________________________________
شہر آ کر میری رہائش کا بندوبست عامر کے فلیٹ میں ہی تھا.....
سو وہاں پہنچ کر کھانا کھانے کے بعد آرام کی غرض سے کمرے میں چلا گیا......
عامر کی یہاں پہ چھوٹی سی دوکان تھی جس وہ اپنا گزر کرتا.....
لابالی بندہ تھا نہ کوئی زمیداری تھی بس جو کمایا اپنے پہ لگایا اور عیش کی....
گزرتے دنوں کے ساتھ ہم بے(میں نے اور عامر نے) شہر کے بارونق ایریے میں شوروم کے لئے جگہ خریدی جس کے سرمائے کے لئے میں نے اپنے ابو کی جمع پونجی اور جو تھوڑی زمین تھی بیچ دی (ابو نے بہت سمجھایا کہ سب بیچ کہ کہاں جاؤ گے... اگر خسارہ ہو گیا تو سب لٹ جائے گا.... ہم کہیں کے نہ رہیں گے....
مگر میں دولت کو پانے کی ہوس میں ان کو باتیں سنا دیتا اور زیادہ و بہتر کے لارے لگا دیتا) باپ تھے ہر جائزوناجائز پوری کرتے آئے تھے یہاں بھی آخر وہ مانتے ہی بنے....
میرے ساتھ عامر اور اس کے ایک اور دوست (جس نے جگہ کیلئے ہماری بہت مدد کی تھی) نے پرٹنرشپ پہ کام کا آغاز کیا.....
وقت گزرتا گیا اور میں کاروبار میں اس قدر گم ہوا کہ بھول گیا کہ اپنے پیچھے بوڑھے ماں باپ جنہیں میری اب ضرورت ہے کہ میں انکا سہارا بنوں اور ان کے ساتھ وقت گزاروں , بیٹھوں ,باتیں کروں کہ انھیں اس عمر میں بھی مجھ سے سکون ملے جیسے بچپن میں ملتا تھا چھوڑ آیا ہوں جو میرے منتظر ہیں کہ کب آتا ہوں اور وہ مجھے دیکھ کہ اپنی آنکھون کو ٹھنڈ پہنچاتے.. اپنی بیوی کو میں بلکل ہی بھول گیا کہ جب اسے میرے ساتھ کی ضرورت ہے میں اس پہ اپنی ساری زمیداریوں کا بوجھ لاد کہ میں کامیابیوں کو پانے لئے آ گیا ہوں... محض ایک ہفتہ اس کے ساتھ گزار کے آگیا اور جب واپسی کا پوچھتی تو بہلا دیتا کہ تمھارے لئے ہی کمانے آیا ہوں..... تاکہ تمھاری زندگی پرسکون اور عیش و عشرت والی بنا سکوں اور میرے سنگ تمھیں کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو....
اور وہ اللہ میاں کی گائے میری چند محبت کی باتوں سی ہی بہل جاتی اور حسین مستقبل کے خوابوں کو بنتی میری ماں باپ کا بھی بہت خیال رکھتی....
اور میں عامر کی سنگت میں اور کچھ مزید دوستوں کے ساتھ جن کی تعداد میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہی ہوا.... ان کی شولیت کے ساتھ دنیا کی خوبصورتی و حسن اور رنگینیوں میں ایسا الجھا کہ سب فراموش کر بیٹھا کہ اس مصنوعی و عارضی رنگینیوں سے کچھ حاصل نہ نہیں....
دن و رات کاروبار میں ترقی کے ساتھ ساتھ مجھے بھی بری صحبت نے اپنے حسن کی لپیٹ میں لے لیا اور دن شوروم میں پیسے چھاپنے میں گزرتا اور راتیں کلبز کی زینت بنتیں...
جب کبھی غلط طریقے سے ہم پیسے کماتے اور گاڑیوں کے سپئر پارٹس میں ردوبدل کر کے ان کا میعار گرا کر آگے بیچتے... بہت منافع ہوتا اور میری امیروں والی خواہشات بھی پوری ہوتیں گئیں.....
میں نے شہر میں خوبصورت گھر خریدا اپنے والدین اور بیوی کو بھی لے آیا....
جب کبھی ابو مجھ سے استفسار کرتے کہ میں کیا کام کرتا ہوں تو میں انھیں مطمئن کر دیتا کہ اللہ نے برکت ڈالی ہے کاروبار اچھا چل گیا ہے اور اِدھر اُدھر کی باتوں میں ہی الجھا دیتا کہ وہ اصل مدعا ہی بھول جاتے..
مگر وہ ناسمجھ نا تھے آخر انھوں نے بھی دنیا دیکھی سب رنگ ڈھنگ سے واقف تھے میرا رویہ چھپانے کے باوجود بھی انھیں خطرے کی علامات دیتا کہ وہ مجھے باتوں باتوں میں سمجھاتے کہ " بیٹا دنیا جتنی خوبصورت دکھتی ہے اتنی ہی ظالم بھی ہے, یہ گول ہے جو کرو گے آخر تمھارے سامنے آئے گا...
ہر کام کے دو پہلو ہوتے ہیں ہمیشہ مثبت پہ عمل کرو گے تو ہی کامیابی پاؤ گے..."
میں انھیں ان کی باتوں پہ سنا دیتا کہ"آپ کو کیا پتہ دنیا کا..آپ نہیں جانتے یہاں سب کام مثبت سے نہیں بنتے تھوڑی ہیراپھیری بھی جائز ہے....
آپ نے آخر مثبت سے کیا حاصل کر لیا ہے... آپ کے اسی مثبت کے چکر میں , میں نے ہمیشہ چیزوں کو حسرت سے دیکھا اور جب اپنے ساتھ ساتھ آپ کی بھی زندگی پرسکون کی ہے تو آپ ایسی باتیں کر کے یہ جتا رہے ہیں کہ میں غلط ہوں.... مجھے سمجھ نہیں کہ کیا صحیح کیا غلط ہے.... میں ہی پاگل ہوں جو آپ کے سکون کی خاطر خوار ہو رہا ہوں...."
میرے رویے کی تلخی نے انھیں اس قدر دلبرداشتہ کیا کہ وہ ہارٹ اٹیک کے باعث اس دنیا سے ہی منہ موڑ گئے....
ان کے جانے کا مجھ دکھ تھا... یہ ملال بھی تھا کہ کاش میں وہ باتیں نہ کرتا تو شاید آج وہ حیات ہوتے....
ان کے جانے سے ماں بلکل خاموش ہو گئی....
بیوی کی بھی ملامتی نظریں مجھے ہی قصوروار گردانتی....
کچھ ہفتے تو مجھے خود ان کی کمی کھٹکتی مگر پھر وہی بےحسی اور مردہ ضمیر کے ساتھ میں اپنی پرانی روش اختیار کر گیا...
اس دفعہ تو ایسا الجھا کہ ماں بیوی کی کوئی سدھ بدھ نہ تھی....
اپنے دوستوں کو ہی سب گردانتا مگر جب ان کی حقیقت مجھ پہ واضح ہوئی تب سہی معنی میں میرے پیروں تلے سے زمین نکلی.....
یہ تب کا واقعہ جب میں عامر کے فلیٹ اپنے اکاؤنٹس کی ڈیٹیلز کی فائل لینے گیا.....
تب مجھ پہ آشکار ہوا کہ میں واقعی آستین میں سانپ پال رہا تھا.... جنھوں نے مجھے ڈسا تو میں کسی قابل نہ بچا...
وہ میری نشے کی حالت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سب اپنے نام پہ کروا چکے تھے اور میرے قتل کا منصوبہ بنائے بیٹھے تھے...
وہاں سے میں الٹے قدموں لوٹا....
گھر جانے کی بھی ہمت نہ تھی کہ کس منہ سے جاؤں ....
جس کو میں نے حقیقت مانا وہ فریب تھا...
جن کو اپنا مانا وہ غیر تھے,دغا باز تھے..
مجھے ملال تھا کہ میں کیوں اس قدر کھو گیا کہ اپنا آپ,اپنے سے جڑے میرے رشتے میں سب کو فراموش کر گیا...
سب کو اس قدر اذیت دی کہ سب روٹھ بیٹھے تھے.....
وہ رب جسے عرصے سے میں بھلا بیٹھا تھا یاد آیا....
دل کیا اس کے سامنے پھوٹ پھوٹ کے رو دوں اسے معافی مانگوں کہ
"مجھے بخش دے یارب... میں تیرا گناہگار بندہ تیرے سامنے جھکنے کے قابل نہ رہا....
جسے غرور اور خودغرضی نے مار ڈالا...
جس کی بےحسی نے اپنے نگل لیے مگر میرے دل پہ ایسے تالے پڑے کہ میں ان رنگینیوں کا ہو کے رہ گیا....
میں گناہوں سے لتھڑا ہوا ہوں مجھے بچا لے.....
مجھے اپنا لے کہ تیرے سوا میرا کوئی نہیں رہا....
مجھے اپنا لے.. مجھے اپنا لے...."
______________________________________
مردہ دل اور قدموں کے ساتھ گھر آیا اپنی ماں کے کمرے کی جانب رخ کیا....
وہ آنکھیں موندے بیڈ پہ بیٹھی تھی...
چپ چاپ ان کے قدموں پہ سر رکھ دیا...
آنکھوں سے آنسوؤں کا ریلہ رواں تھا....
وہ سمجھ گئی کہ اسکا بیٹا واپس آگیا... جو دنیا کی بھیڑ میں کھو گیا تھا وہ آج لوٹ آیا.....
انھوں نے مجھے اٹھایا اپنے سینے سے لگایا....
میں انکے سینے سے لگا دل کا غبار ہلکا کرنے لگا.... اسی دوران انکے پوچھنے پہ اب تک کی ساری کوتاہیاں,بےایمانیاں,دھوکے, فراڈ اور اپنے خلاف بنے جانے والے جال کے بابت سب بتا دیا.....
یہ ان کے لیے دھچکے کے کم نہ تھا کہ ان کا بیٹا اتنا کیسے بھٹک سکتا ہے.....
اسی کی بدزبانی کی وجہ سے اسکا باپ اس دنیا سے چلا گیا....
وہ اندر ہی اندر کڑھنے لگیں مگر مجھے خوبصورت الفاظ سے ہمت بندھائی کہ" اپنے اللہ کے سامنے جھک جا....
وہ اپنے بندوں کو کبھی رد نہیں کرتا, کبھی نہیں دھتکارتا...
اللہ اور بندے کا تعلق تو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا...
اس دنیا کے جھوٹے لوگوں کے سامنے تم جتنا رو لو, تڑپو, چلاؤ یہ تمہیں نہیں سمجھے گی نہ ہی اطیمنان ملے گا....
بس اس اللہ کے سامنے ایک ندامت کا آنسو بہا لو وہ تمہیں تھام لے گا.... اپنی رحمت سے نوازے گا کہ تم سرشار ہو جاؤ گے... باقی میں اور تمہارے بابا تو تم سے ناراض تک نہ تھے تو معافی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا...."
میں نے انھیں اپنے سینے سے لگا کر سکون حاصل کیا... ان کے پیر چومے اور انھیں پہ سر رکھ کے سو گیا....
مگر صبح میرے لیے قیامت سے کم نہ تھی....
میرے ابو کے بعد امی بھی مجھے اس ظالم دنیا میں تنہا کر گئی....
ان کے اچانک انتقال نے مجھے توڑ دیا.....
سارا سارا دن کمرے میں روتا..اللہ کے سامنے گڑگڑاتا کہ مجھے معاف کر دے....
اس کٹھن وقت میں میری ڈھال میری ہمسفر ہی تھی...اس نے مجھے سمیٹا اور واپس گاؤں لے گئی ... جہاں میرا بچپن,میرے ماں باپ کی یادیں تھیں.... ان کے سنگ گزارے میری زندگی کے حسین لمحے تھے....
واپس آکر میں سنبھلنے لگا... جیسے میرے اللہ نے مجھے معاف کر دیا ہے اور باور کروایا کہ میں اس دنیا میں کچھ نہیں جب تک وہ پاک ذات میرے ساتھ نہیں.....
______________________________________
وقت کا کام ہے گزرنا اور وہ گزر جاتا ہے مگر گزرتے گزرتے ہمیں اپنی اہمیت اور قدروقیمت ہم پہ بہت اچھے سے واضح کر جاتا ہے....
اسی طرح مجھے بھی سمجھ آئی کہ مجھے جینا ہے اپنے لیئے اپنی بیوی کے لیے اور اس معصوم جان کے لیے جس نے مجھے باپ کے رتبے پہ فائز کرنا تھا.....
جو تھوڑا بہت سرمایا میرے پاس بچا پڑا تھا اس سے چھوٹی سی کپڑے کی دکان بنائی...
وقت کی ٹھوکر اور اس مطلبی دنیا نے مجھے اصلیت سے روشناس کروایا کہ اپنوں کے سوا کوئی آپ کا سگا نہیں... اپنے بھی وہ جن کے گرد آپ کی زندگی گھومتی ہے جو آپ کے لیے جیتے ہیں اور جن کے لیے آپ نے جینا ہوتا ہے....
میں جو امارت کے پیچھے بھاگا تھا جو مجھے دور سے ہیرے کی مانند چمکتی دکھائی تھی اسے پانے کے بعدمجھ پہ اس کی اصلیت کھلی کہ وہ اندھیری کال کوٹھری کے سوا کچھ نہیں جس میں چاروں اور ہولناک سناٹا اور مار ڈالنے تک کی حد تک خوفناک ویرانیوں کا گھراؤ ہے اور میرے ہاتھ خالی ہیں اور دامن داغدار اور گناہوں کا پلڑا اس قدر بھاری کہ بوجھ سہتے سہتے ہی انسان کا خاتمہ ہو جائے....
اس کے خوف سے اور مرنے کے ڈر سے میں پلٹا تو مجھے تھامنے والی وہی ذات تھی جس نے اس کائنات کا نظام سنبھال رکھا ہے... اس نے مجھے بکھرنے سے بچایا اور مجھ میں زندگی کی رمق جگائی.... اور مجھے اپنی رحمت و نعمت سے نوازا....
______________________________________
آج میں اللہ کے فضل اور رہنمائی کے سبب کپڑوں کے بوتیکس کا مالک ہوں....
جہاں میں نے ایک چھوٹی سی دکان سے شروعات کی تھی اپنی لگن اور ایمانداری سے کام کرتے اور اللہ اور اسکے رسول کے بتائے راستوں پہ عمل پیرا ہوتے آج میں پورے ملک میں اپنے کام کی وجہ سے پہچانا جاتا ہوں...
جہاں کاروباری زندگی میں برکت اور حق حلال کی کمائی نے میری زندگی میں سکون کی آمیزش کی ہے وہیں گھریلو زندگی بھی خوشحال ہے....
میں دو بیٹوں اور ایک پیاری سی بیٹی کا باپ ہوں...
میری بیوی اور اولاد مجھ سے مطمئن ہیں جس کے باعث میری زندگی پرسکون ہے...
جہاں مجھے کوئی ملال نہیں
کسی چیز کی کمی نہیں
نہ ہی کوئی خلش باقی ہے....
______________________________________
آج میں اپنی فیملی کے ساتھ ساحلِ سمندر کے پرکشش نظاروں سے لطف اندوز ہونے آئے ہیں..
جہاں تینوں بہن بھائی کھیلنے میں مصروف تھے وہیں میں اپنی شریکِ حیات کے سنگ پانی میں اٹھتی گرتی لہروں کا کھیل دیکھ رہا تھا مگر میری سوچ کا محور وہی پاک ذات تھی جس نے مجھ بروقت راہِ راست پہ چلایا..
مجھ اس راہ کا مسافر بنایا جس نے مجھے حقیقی تک کی رسائی دی اور اتنی خوبصورت جنت کا باسی بنایا جس میں میری حیات و اولاد مجھ سے مطمئن اور خوش ہیں....
میں جتنا اس ذات کا شکر ادا کروں کم ہے بےشک زندگی اللہ کے اطاعت اور ماں باپ کے سائے شفقت کے بنا بےرنگ ہے....
اور اس نے مجھے سمیٹ لیااپنی رحمت سے
جب واپسی ہوئی میری گناہ کے دلدل سے
______________________________________
بعض اوقات انسان کا ٹاکرا ایسے لمحات سے بھی ہوتا ہے جو اس کی زندگی کو مکمل پلٹ دیتے ہیں....
ایسا ہی پل ثاقب احمد کی زندگی میں بھی آیا جو اسے حقیقت سے آشنا کروا گیا...
اسے سبق دیا کہ جس کی اس نے جستجو کی تھی وہ محض فریب تھا اور جسکا حصول ہوا وہ خوبصورت حقیقت....
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو...
دعاؤں میں مجھے،اپنے ملک کو یاد رکھئیے...
اپکی رائے کی منتظر....
YOU ARE READING
Malaal
Short StoryMALAAL A story of selfish and avaricious man who never thanks upon which he was already granted with but bother his relation for the sake of becoming bashaw by hook or by crook... Later on when he lost his lovedones he regret upon his avidity...
