شکست دل۔ پہلا در

181 5 0
                                        

شکست دل

    اللہ کی جانب سے نوازے گئے خوبصوت تحفوں میں میری عزیز پھپھو بھی شامل تھیں۔میری پھپھو مجھے بے تحاشا چاہتی تھیں۔ میری بلائیں لیتی نہ تھکتیں۔ وجہ یہ تھی کہ دوسروں کی بہ نسبت میں اپنے آپ میں مکمل تھی۔ میری ذات میں باطنی طور پر اور ظاہری لحاظ سے کوئی تشنگی نہیں تھی۔ ساتھ ہی ساتھ میرا تعلیمی سفر ایک شاندار اکیڈمک ریکارڈ سے مزین تھا۔ میں بلاشبہ بہت عروج پر تھی۔  مگر میری عظیم ماں کی شاندار تربیت کے سبب عاجزی و انکساری کوٹ کوٹ کر مجھ میں بھری تھی۔نیز میرا کردار بھی بہت پاک و صاف تھا کہ میں نے خود کو بہت سہج سہج کر رکھا تھا۔    
    " انابيه تو سب میں منفرد ہے۔ اس کی کاملیت سب سے انوکھی ہے۔" پھپھو اکثر و پیشتر اسی طرح میری ستائش کرتی رہتیں۔
    ہاں، لیکن میں حسین نہیں تھی۔میری آنکھیں غلافی و غزالی نہیں تھیں۔ میری آنکھوں کو گہری جھیلیں سمجھ کر کوئی ان میں ڈوبتا نہیں تھا۔ نہ میرے پاس گوری پیشانی تھی اور نا ہی قندھار ی انار سے رخسار! میرے لب بھی کچھ یاقوت کی کا شوں کی طرح نہیں تھے۔ بلکہ یہ اوپر کیطرف پتلے اور نچلی جانب بھر ے بھر ے سے لگتےتھے۔  ہاں ناک ضرور ستواں تھی، اٹھی ہوئی! اور اس میں لشکار ے مارتی نوز پن بہت بھلی لگتی تھی۔ میری رنگت بچپن میں بیحد صاف تھی۔ بقول میری امی جانی کے ، کتابی کیڑا بن کر میں نے اپنی رنگت کو چولھے میں جھونک دیا ہے۔حالیہ اوقات میں میری رنگت سچ مچ جھلس گئی تھی۔ آنکھیں حد درجہ چھوٹی تھیں لیکن ان میں موجود لینس بالکل سیاہ اور چمکدار!!     
                                                     - - - - -
    میں نےLLB میں پورے شہر میں پہلی پوزیشن لی تھی۔ مجھ سے جڑے عزیز و اقارب ، دوست و احباب کی خوشیوں کی کوئی انتہا نہ تھی۔
    پیاری پھپھو بھی بہت خوش تھیں اور ۔۔ پھپھو جانی کا اکلوتا بیٹا بھی!!  
     میری پھپھو کا بیٹا۔۔ پورے خاندان میں میری طرح وہ بھی انفرادیت رکھتا تھا۔
   6 فٹ سے کچھ نکلتا ہوا قد، وجاہت میں یکتا اور اس کے پاکیزہ تخیلات!!     اس کے مذہبی رجحان کے خیالات بہت عمدہ تھے۔ خاص الخاص اپنی سوچ ہی کی وجہ سے وہ دوسرے کزنز سے مختلف تھا۔ خاندان میں سب اسے اس کی غیر موجودگی میں دقیانوسی قرار دیتے لیکن جب وہ سامنے ہوتا تو اس کے اپالو جیسے حسن کے سامنے اس کی تمام تر خامیاں پس منظر میں چلی جاتیں۔۔۔
     وہ پھپھو کے ساتھ ساتھ میری ہر کامیابی پر خوش ہوتا تھا۔ لیکن میرے LLB مکمل کرنے کے بعد کچھ مختلف ہوا۔ اس نے مجھ پر ایک خوش کن انکشاف کیا۔
   " تم مجھے بہت خوبصورت لگتی ہو۔ میں جب تمہاری  آنکھوں کی جانب متوجہ ہوتا ہوں تو ان میں کھو سا جاتا ہوں۔ تمھاری مسکراہٹ مجھے جکڑ لیتی ہے خود میں۔۔بس۔۔میں۔۔ تمہیں اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔"
    وہ رات کی دودھیا چاندنی میں مجھ پر اپنی پسندیدگی یہ محبت۔۔ عیاں کر رہا تھا۔ میں متحیر رہ گئی تھی۔ وہ ایک لمحہ جب میں ڈگمگائی۔۔۔ لیکن پھر اپنی ازلی خود اعتمادی سے میں نے اس سے دو ٹوک بات کی۔
    " مسٹر عفان عمیر، کیا میں پوچھ سکتی ہوں کے مجھ میں بھلا ایسے کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں کے تم نے اپنی زندگی کے لیے میرا انتخاب کیا ہے؟؟ "وہ ہلکا سا مسکرایا۔
    "مس انابیہ حیات، یہ محبت کا نزول ہے جو آسمان سے قلب پر سیدھا وارد ہوا ہے۔۔ اس سے میں انجان ہوں کہ تم مجھے آخر اتنی عزیز کیوں ہو گئی ہو!!.."
  وہ چند لمحے ٹھہرا۔ " ویسے تمہارا غیر مردوں سے بات کرتے وقت محتاط رہنا مجھے اپیل کرتا ہے."
  میں نے اپنی مسکراہٹ دبائی۔ 
خیر، میں دوبارہ سائل بن گئی۔" تم ایک ایسے نوجوان ہو جسے حسین ترین لڑکی مل سکتی ہے۔۔  اور۔۔ میں۔" میں نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔" مجھ میں تو ایسا کچھ نہیں جو مجھے خوبصورت ثابت کرے, پھر؟"
   " اُف۔ پھر وہی۔۔ کہا نہ یہ محبت کا سفر ہے ۔۔ آسمانی شئے۔۔ وہ کہاں حسن کی دلیلیں مانگتی ہے انابیہ۔۔ ہاں؟" وہ شاید تھوڑا جھنجھلا گیا تھا۔
     " یہاں، تمہاری پیشانی پہ موجود تل ، تمہارے حسین ہونے کا غماز ہے." اس نے ہمارے درمیان موجود فاصلے کو طے کیا۔ اور میری گھنی بھنوؤں کے بالکل اوپر اشارہ کیا۔ اب ہمارے بیچ ایک قدم کا فاصلہ بھی باقی نہیں تھا۔۔ میری دھڑکنوں میں ارتعاش ہوا۔۔
زندگی میں پہلی مرتبہ کسی مرد نے بغیر اجازت اتنا فاصلہ طے کیا تھا۔میں خداوند کریم کی اس نعمت سے انجان تھی۔ لہذا اب۔۔۔ حیرتوں کے سمندر میں غوطہ زن تھی۔ یہ خیال ہی کہ کوئی آپ کو چاہتا ہے، آپ سے غیر مشروط محبت کرتا ہے۔۔ آپ کو عرش معلٰی  پر پہنچا دیتا ہے ۔
     میں بھی خوشی کے احساس سے سرشار تھی لیکن مجھ میں موجود انظباط اس بات کی اجازت نہیں دیتا تھا کہ میں اس جانب اپنا قدم اٹھاؤ ں ۔ اپنی نسوانیت پہ ہلکا سا بھی چھینٹا برداشت نہیں کر سکتی تھی میں۔۔ جانتی تھی، بخوبی جانتی تھی کہ اس آبگینہ پہ لگنے والی ایک ہلکی سی ٹھیس ہی اسے ریزہ ریزہ کر جائے گی۔
لہذا میں نے اس سے جذب  کے ساتھ کپکپاتے لہجے میں کہا، " عفان،  تم پھپھو سے اس ضمن میں بات کرو نہ کہ مجھ سے۔۔ اگر عرش سے اتری محبت کو ہم زمین والوں کے بیچ تم لے ہی آئے ہو تو اسے پایہ تکمیل تک پہونچا ؤ۔۔" درمیان میں میں اپنے اصل پہ لوٹ آئی تھی۔ دو ٹوک بات کی تھی میں نے۔۔
جاتے جاتے میں نے اسے پلٹ کر دیکھا تھا۔
     میرے چھپے اقرار  نے اس کے چہرے کو روشنی بخش دی تھی۔
۔                ۔۔۔۔۔۔جاری
از- در فشاں

شکست دلStories to obsess over. Discover now