We've updated our Content Guidelines.
Review the latest guidelines to keep sharing stories safely.

سوچ

75 0 0
                                        

جب سڑکیں سرسبز ہونگی
پرندے آزاد ہونگے
جب آگ نہ جلے گی
ہوا کے سوار صرف پرندے ہونگے
پانی میں کھیلتی صرف مچھلیاں
ساحل کی ریت کو چھونے والا صرف پانی ہوگا
پھولوں کالمس پاتی صرف تتلیاں ہونگی
پتوں کا ساز
خزاں کی ویرانی
بہار کا جوبن
سردیوں کی چاندی
گرمیوں کی چھاؤں
"یہ سچ میں تم نے لکھا ہے ارمان"
توقیر نے اس  کے لکھے ایک صفحے کو پڑھ کر پوچھا
"تو میاں ارمان یہ بتاؤ ایسا کب ہوگا"؟
جب دنیا میں کوئی بھی نہیں ہوگا
"کیا کہا تم نے ارمان "؟
وہی جو تم نے سُنا
ایسے جواب کی توقع ارمان سے ہی کی جاسکتی تھی۔
کانوں میں ہینڈز فری لگائے وہ اگلے صفحات لکھنے میں مشغول تھا لیکن ہینڈز فری میں کچھ نہیں چل رہا اس کا اندازہ توقیر کو ہوچکا تھا کیونکہ کیبل اور موبائل کوسوں دور تھے۔
ارمان تم ایک عجیب آدمی ہو، تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا یہ کہتے ہوئے توقیر وہاں سے چل دیا۔
توقیر کا تعلق ایک اوسط درجے کے گھرانے سے تھا لیکن زمے داریوں نے اسے بہت سگھڑ بنا دیا تھا تعلیم کے ساتھ ساتھ اس نے نوکری کر کے اپنے والدین کو سہارا دیا تھا اور گھرکے کاموں کو بھی احسن طریقے سے انجام دے رہا تھا،
توقیر کی زندگی میں ایک ہی دوست تھا جس کا نام ارمان تھا ، دنیا سے بے فکر، اپنی موج مستی میں مگن ، اور سہل پسند زندگی دونوں ایک دوسرے کے بر عکس تھے،
نیلے پانی کے اوپر نیلا آسمان
مٹی کی خوشبو اور یہ کھیت کھلیان
وجود جن کو دیا رب نے یہ نکمے انسان
سمجھ کے سلطنت ہو بیٹھے براجمان
ارمان یہ کیا دیواروں پے بھی لکھنا شروع ہوگئے ہو؟
کیوں دیواریں سن سکتی ہیں پڑھ نہیں سکتی؟
توقیر اس کامنہ تکتا رہ گیا۔
اچھا مجھے کچھ اپنا لکھا سناؤ
خادم حاضر ہے جناب ، ارمان تو شائد اسی طاق میں بیٹھا تھا کہ کب اس سے کچھ سننے کے لیے کوئی آئے۔
اکثر اس کی لکھی چیزوں کو لوگ ردی کی ٹوکری کی نظر کیا کرتے تھے۔
توقیر میاں سننا چاہتے ہو تو سنو۔
اس نے اپنے چند صفحات الماری سے نکالے اور کرسی پے براجمان ہوکر پڑھنے لگا۔
" دھاتوں کو اہمیت دیتے ہو، کاغذ کی پوجا کرتے ہو، کبھی سوچو کہ رنگ کیوں اچھے لگتے ہیں؟
بِن بولے یہ سرگم کیسا کھیل رچاتی ہے؟
گلاب پیارا لگتا ہے
کانٹے سہانے لگتے ہیں
سورج کا لمس اپنا اپنا لگتا ہے
چاند کی کشش روز ہنساتی ہے
تارے کھیلتے رہتے ہیں
انسان تنہا رہتے ہیں
ہر نکما، ہر کمزور، ہمیں بزدل لگتا ہے
کسی کو دُکھ دے کر ہمارا دل لگتا ہے
فرق ، تعصب ، نفرت ، بغض ، فریب،
کسی انسان کو دیتے ہیں یہ کام ذیب؟
پھول سا کھِلتا بچہ کب جوانی کے سمندر میں گِرتا ہے اسے کوئی اندازہ نہیں ہوتا اور پھر اس سمندر کا بپھرنا اور پھر ایک ایسا سکوت جسے سوئی کی آواز بھی بہت اونچی معلوم ہو کب موت کے سائےمیں لیجاتی ہے کوئی اندازہ نہیں ہوتا، سانس اکھڑنا، دل کا رک جانا، خون کا تھک کر رُک جانا،
یا پھر دماغ کا دھرنا دے دینا، سکوت اور پھر لمبا سکوت
، "اندھیرا ، رونا، پانی، خوشبو، کپڑا، مٹی۔
شروعات بھی یہاں سے ہوتی ہے اور اختتام بھی،
رُکو ارمان ، توقیر بولا
"تم اتنے حساس کیوں ہو؟"
تم نے کبھی وقت کو رکتے ہوئے دیکھا ہے؟
ارمان نے سوال کے جواب میں سوال کیا تھا جسکی توقیر کو بلکل امید نہیں تھی۔
ارمان تم مجھے اپنی کتابیں دو جو تم پڑھتے ہو،
"میں انسانوں کو پڑھتا ہوں"
ارمان کے جواب اس کی شخصیت کے عکاس تھے،
تم یہ کہانی مکمل کر کے مجھے بھیجو گے؟
بلکل نہیں ،
کیوں؟
کیونکہ جب تمہارے پاس فرصت ہو مجھ سے مانگ لینا میں بھیج دوں گا۔
"When the roads will be green"
Writen by: Kaleem Khokhar

سوچStories to obsess over. Discover now