شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے❤

584 58 40
                                        


یار اس بار تو چھٹی بہت لمبی مل گئی ہے اب سکون سے جا کے دونوں گھر والوں کو تنگ کریں گے .
داور اور ازمیر بچپن کے دوست تھے اور دونوں کو آرمی سے بے حد لگاؤ تھا یہی وجہ تھی کہ انہوں نے بچپن سے آرمی تک کا سفر اکھٹے طے کیا تھا، دونوں کی دوستی بے مثال اور مشہور تھی۔ ۔انہیں آرمی کو سرو کرتے ہوئے تقریبا 5 سال ہو چکے تھے۔ ازمیر داور سے 5 ماہ بڑا تھا۔ جسکی وجہ سے اکثر وہ داور سے کہا کرتا تھا میں تم سے پورے پانچ ماہ بڑا ہوں تو مجھے بھائی کہا کرو اور داور ہمیشہ یہ کہہ کر ہنس پڑتا۔ تو عمر میں تو بڑا ہے لیکن دیکھنا رتبے میں میں تجھ سے آگے نکل جاوں گا۔ آج انکو پورے سال بعد چھٹی ملی تھی اور دونوں گھر جانے کو بے تاب تھے۔۔
داور تھوڑا سا ضدی شرارتی تھا جبکہ ازمیر اسکی نسبت خاصا سنجیدہ تھا۔۔۔۔مگر دونوں کی ایک دوسرے میں جان بستی تھی۔۔
_______________________________________
دونوں کے گھر پاس تھے جیسے ہی گھر کے پاس پہنچے داور کا شیطانی دماغ جاگ اٹھا۔۔سن ازمیر ایک کام کرتے ہیں تو میرے گھر جا میں تیرے گھر جاتا ہوں۔ تو جا کر یہ کہیں کہ مجھے چھٹی نہیں ملی اور میں تیرے گھر جا کر یہ کہوں گا۔۔ازمیر نے اسے گھورا نہیں مطلب تیرے دماغ کو سکون نہیں ہے۔۔چل نا یار ۔۔داور نے التجائیہ انداز میں کہا۔۔ازمیر نے سر جھٹکا اچھا چل۔۔وہ اسکا جگری دوست تھا اسے کیسے انکار کر دیتا۔۔ اپنے بنائے گئے پلان کے تحت وہ لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں گئے ملنے کے بعد بلکل داور والے الفاظ دونوں نے دہرائے۔۔دونوں گھروں میں جیسے خوشی کی لہر آئی تھی یک دم تھوڑی مانند پڑ گئی۔۔کیونکہ ان کے خیال میں اگر ایک آیا ہے تو دوسرا بھی ساتھ ہوگا مگر ایسا نہ ہوا۔۔ملنے کے بعد جیسے ہی وہ ایک دوسرے کے گھروں سے نکلے ازمیر نے داور کو گھوری ڈالی۔۔بدتمیز شخص مل گیا سکوں تنگ کر کے؟ داور مسکرا دیا۔۔اچھا اچھا چل اب چلتے ہیں اپنے اپنے گھروں میں اب جب وہ ایک دم سے دیکھیں گے تو زیادہ خوش ہونگے۔۔ ایک دوسرے کو گلے لگاتے جیسے وہ گھروں میں داخل ہوئے دونوں گھروں میں خوشی کی لہر آ گئی۔۔۔ 1 عرصے بعد وطن کے بیٹے گھروں میں لوٹے تھے۔۔دونوں طرف ہی خوشیوں کا ساماں تھا۔۔
_____________________________________
شام کے وقت ازمیر اسکے امی ابو داور کے گھر آگئے تھے۔۔ دونوں خاندانوں کی دوستی بھی ایسی ہی تھی جیسے انکا آپس میں خون کا رشتہ ہو۔۔کافی دیر رونق لگی رہی تو ازمیر کی امی بول اٹھیں بہن ہمارا آپس کا ساتھ برسوں پرانا ہے ہم لوگ اس دوستی کو اب رشتے داری میں بدلنا چاہتے ہیں۔۔داور جو ازمیر کے ساتھ بڑے مزے سے بیٹھا کوک پی رہا تھا یک دم ساری کوک باہر نکال دی اور کھانسنے لگا۔۔ازمیر نے جلدی سے اسکی کمر تھپتھپائی۔۔کیا ہو گیا بے؟ سب لوگ اسکی طرف متوجہ ہو گئے۔۔داور نے گلا کھنکارا۔۔آہم اصل میں آنٹی یہ دوستی رشتے داری میں کیسے بدلے گی میرا مطلب میں اکیلا بیٹا ۔۔مطلب اب ازمیر اور میری شادی تو نہیں ہو سکتی۔۔ازمیر نے اسکے پیٹ میں کہنی ماری۔۔استغفر اللّٰہ دماغ ٹھیک ہے تیرا؟ سب کے قہقے چھوٹ گئے۔۔ارے نہیں ہماری ماہا ہے نہ اپنے داور کے لیے ۔۔میں جانتی ہوں لڑکے والے آتے ہیں رشتہ لیکر لیکن یہ ہماری ایک خواہش تھی جسکا اظہار ہم نے آپ سے کیا ہے۔۔
داور کے ماں باپ مسکرا دیے، انھیں بھی ماہا بہت پسند تھی اور انکی اس خواہش پر وہ بھی بہت خوش تھے۔۔کیوں بر خودار؟ وہ داور کی طرف متوجہ ہوئے ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے ماہا ہماری اپنی بچی ہے ہمیں تو منظور ہے۔۔داور ابھی تک ہونقوں کی طرح سب کو دیکھ رہا تھا۔ جبکہ ازمیر اپنی مسکراہٹ ضبط کر کے بیٹھا تھا۔
آ ہاں جو آپ سبکو بہتر لگے داور نے ہلکا سا جواب دیا۔۔۔ سب مسکرا دیے۔۔ازمیر نے فوراً داور کو گلے لگایا۔۔۔میرا دوست۔۔میرا شیر۔۔
داور دل سے مسکرایا۔۔۔
پھر بجائے منگنی کے ہم انکا نکاح ہی کروا دیتے ہیں، نا جانے کب پھر چھٹیاں ہوں اور یہ لوگ آئیں۔۔داور کے بابا نے اپنی رائے دی۔۔
سب نے اس فیصلے کو سراہا۔۔۔مگر بابا جان یہ کچھ زیادہ جلدی نہیں میرا مطلب کوئی تیاری نہیں۔۔
تم اسکی پروا نہ کرو میرے شیر میں ہوں نہ۔۔ازمیر نے پر جوش انداز میں کہا۔۔۔تو فائنل ہوا جمعے کو ان دونوں کا نکاح ہے۔۔میری ایک خواہش ہے بابا جان ازمیر بولا۔۔۔ہاں کہو؟ میں در اصل یہ نکاح سادگی سےمسجد میں کرنا چاہتا ہوں۔۔کوئی مسئلہ نہیں اس سے بڑھ کر کیا بہتر ہوگا۔۔ازمیر کے ابو مسکرا کر بولے۔۔
_______________________________________
جمعے کا دن آ پہنچا تھا اور سب بادشاہی مسجد کی طرف روانہ ہو چکے تھے۔۔دونوں کا نکاح داور کی خواہش پہ سادگی سے پڑھایا گیا۔۔سب نے ایک دوسرے کے گلے لگ کر مبارک دی۔۔ازمیر تو ساتویں آسمان پر تھا۔ آخر ان کی دوستی اب رشتے میں بدل چکی تھی۔۔ازمیر نے ماہا کو گلے لگایا۔۔ اللہ تم دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے۔۔ آمین۔۔ اور سالے صاحب اب ذرا ہمیں اپنی زوجہ محترمہ سے بات کرنے دیں گے دو منٹ؟ ازمیر دانت پیستا پیچھے ہوا۔۔ ہنہ۔۔کرلو بات پر میری بہن کو تنگ مت کرنا۔۔داور نے ابرو اچکائی یعنی تجھے کہنے کی ضرورت ہے؟۔ازمیر ہنستا ہوا باقیوں کی طرف چل دیا۔۔
سب ایک دوسرے سے باتوں میں مگن تھے۔۔داور نے گلا کھنکار کر سلام کیا ۔۔اسلام علیکم!مسز داور۔۔ ماہا نے ہولے سے سر کو ہلا کر سلام کا جواب دیا۔۔ وعلیکم سلام! بہت مبارک ہو آپکو۔۔ وہ نرمی سے مسکرا کر گویا ہوا! آپکو بھی۔۔میں یہاں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں آپ جانتی ہیں ایک فوجی کی زندگی کا بھروسہ نہیں ہوتا کب کیسے کسی بھی وقت ہمیں ایک فون آئے اور ہم اپنے مشن کی طرف روانہ ہو جایئیں۔۔
فوجی کی بیوی بننا آسان نہیں ہو گا شاید۔۔بہت صبر اور ہمت چاہیے۔۔میری آپ سے بس اتنی التجا ہے کہ کبھی جب مشن اپنے پاؤں پہ جاؤں لیکن لوٹوں کسی کے کندھے پر تو صبر کیجئے گا۔ صرف دعا کیجیے گا اور فخر محسوس کیجیے گا کہ آپ ایک شہید کی بیوی ہیں۔۔ مجھے اپنے وطن سے محبت نہیں عشق ہے اسکی ایک پکار پر میں 100 بار اپنی جان وار دوں بس آپ ہمت کیجیے گا۔۔وہ کچھ لمحے رکا۔۔۔آپ بھی سوچ رہی ہونگی کیسا شوہر ہے جو نکاح کے چند لمحوں بعد ایسی باتیں کر رہا ہےلیکن انتباہ بھی تو ضروری ہے شاید پھر کبھی ایسے بات کرنے کا موقع ملے نہ ملے آپ بہت اچھی ہیں ۔۔ جب تک زندگی رہی آپ مجھے اپنا وفا دار پائیں گی۔۔وہ خاموش ہو گیا۔۔ ماہا کی آنکھیں آنسوں سے بھر گئیں۔۔آنکھیں بند کر کے آرام سے کھولیں، بہت سے آنسو اندر اتارے۔۔مانا کہ آرمی والے ظالم ہوتے ہیں پر آپ تو کچھ زیادہ ہی ہیں۔۔داور کھل کے مسکرایا۔۔اردگرد دیکھا اور دھیرے سے قریب ہوا۔۔ ویسے تو آپ میری بیوی ہیں پورا حق رکھتا ہوں اسنے نرمی سے ماہا کے ہاتھ پکڑے اور جھک کر اسکی پیشانی پر محبت بھری مہر ثبت کی اور آرام سے پیچھے ہوا ۔۔ماہا مسکرا دی۔۔
وہ دونوں بھی اس طرف چل دیئے جہاں سب موجود تھے۔۔
_______________________________________
ابھی نکاح کو ایک ہفتہ ہی گزرا تھا کہ انکو فون آگیا کسی خاص مشن کے لیے۔۔گھروں سے دعائیں سمیٹتے وطن کے دونوں بیٹے اپنے مشن پر روانہ ہو گئے۔۔
مشن چونکہ بہت خاص تھا اس لیے تیاری ہر لحاظ سے مکمل چاہیے تھی۔۔داور اور ازمیر دونوں ہی میجر کے رتبے پر فائز تھے تو دونوں کو اپنی کمان سمنبالنی تھی۔۔ ہر مشن پہ جانے سے پہلے وہ دو نفل ادا کرتے تھے۔ اس کے بعد ایک دوسرے سے عہد کرتے اگر کسی کو شہادت نصیب ہوئی تو دوسراروئے گا نہیں بلکہ فخر سے کہے گا کہ یہ میرا دوست تھا۔۔
خوشی ہو یا ہو غمی
زندگی ہو یا ہو موت
ہم ہیں ساتھی
ازل سے رہیں گے ابد تک۔
مسکراتے ہوئے وہ دونوں جذبے اور جوش سے مشن کی طرف بڑھ گئے۔۔
بیحد جرآت سے سب وطن کے بیٹے دشمنوں کا مقابلہ کر رہے تھے۔۔ اچانک ایک دہشت گرد نے گولی چلائی جس کا رخ ازمیر کی طرف تھا۔۔ داور اسے دیکھ چکا تھا اسنے ازمیر کو دھکیلا اور خود آگے ہو گیا۔۔ گولی داور کے سینے کو چیرتی ہوئی نکل گئی باقی سب یہ دیکھ رہے تو فوراً اس پہ گولی چلا کر اسے مار دیا۔۔۔دہشت گرد تو ختم ہو چکے تھے لیکن وہ ایک وطن کا بیٹا شہید کر گئے تھے۔۔ ازمیر چلاتا ہوا اسکے پاس گیا۔۔داور داور آنکھیں کھولو۔۔داور۔۔ وہ چیخ رہا تھا لیکن داور کے چہرے پہ تکلیف کے آثار کے ساتھ ایک خوشی تھی۔۔۔ہم۔۔ن ن نے کیا ع عہد کیا تھ۔۔تھا۔۔ج۔۔جو بھی ش ش شہید ہو۔۔ہوا د۔۔دوسرا ن ن نہیں روئے گا۔۔۔ما ما۔۔ ب۔۔بابا۔۔اپ۔۔اپن۔۔اپنا او۔۔اور م۔۔ا۔۔ماہا ک۔۔کا خیال۔۔ر ۔رکھ۔۔رکھنا۔۔۔۔
میں۔۔ت تم۔۔ س۔۔سب ۔۔کا۔۔۔ ج۔۔جنت ۔۔میں۔۔ ا۔۔انتظا۔۔ر۔۔ک۔روں۔۔گ۔۔ا۔۔
ازمیر مسلسل روئے جا رہا تھا۔۔۔عہد کرنا آسان تھا پر نبھانا بہت مشکل تھا۔۔داور نے آہستہ سے کلمہ پڑھا اور آنکھیں بند کرلیں۔۔ازمیر زور سے چلایا۔۔۔تم کہا کرتے تھے ایک دن تمہارا رتبہ مجھ سے بھی زیادہ ہو گا۔ تو بازی لے گیا میرے شیر۔۔۔ازمیر اسکے سینے پر سر رکھ مسلسل روئے جا رہا تھا۔۔
چلے جو ہونگے شہادت کا جام پی کر تم رسول پاک نے بانہوں میں لے لیا ہوگا۔۔
علی تمہاری شجاعت پہ جھومتے ہونگے۔۔
_____________________________________
جیسے ہی گھر میں خبر پہنچی ہر طرف عجیب سا سماں ہو گیا۔۔داور کے ماں باپ فخر بھی کر رہے تھے کہ انکے بیٹے نے شہادت نوش کی لیکن اندر کہیں نہ کہیں بیٹے کو اب کبھی نا دیکھنے کا درد بھی بہت تھا۔۔
ماہا یہ سن کر سکتے میں آگئی اسکے ذہن میں داور کی ساری باتیں گردش کرنے لگیں۔۔ آپ تو بہت سچے نکلے داور آپ کو وطن سے واقعی عشق تھا وہ بے آواز رہ رہی تھی۔۔ میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں جب تک رہوں گی صبر سے رہوں گی۔۔ شہید کی بیوی ہونے پے فخر کروں گی۔۔ اب زندگی ایسے ہی گزرے گی داور وہ خیالوں میں اس سے بات کرتے رو پڑی۔۔۔
_______________________________________
(کچھ سالوں بعد)
داور۔۔۔داور۔۔۔۔! کدھر ہو بیٹا؟؟۔۔
جی بابا آیا۔۔۔ ایک پانچ سال کا بہت خوبصورت سا بچہ مسکراتا ہوا ازمیر کی گود میں آبیٹھا۔۔وہ ہو بہو داور جیسا تھا عادتوں سے باتوں سے شکل اور شرارتوں سے۔۔ازمیر نے اسے پیار کیا کیسا ہے میرا شیر۔۔ بالکل ٹھیک بابا جان آپ جا رہے ہیں؟ ہاں بیٹا آپکے بابا اب کچھ زیادہ وقت کے لیے جا رہے ہیں تو آپ نے دونوں دادا دادی، ماما اور خاص پھوپھو کا خیال رکھنا ہے۔۔وعدہ؟؟ داور نے اسکے ہاتھ پہ ہاتھ رکھا وعدہ۔۔ازمیر نے اسے گلے لگایا اور سب سے مل کر اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گیا۔۔
ماہا داور کی شہادت کے بعد داور کے گھر چلی گئی تھی وہ داور کے ماں باپ کا سہارا بنی تھی۔۔ ان کے کہنے کے باوجود اسنے دوسری شادی نہیں کی تھی وہ بس اب اس وقت کے انتظار میں تھی جب وہ داور سے جنت میں ملے گی۔۔
داور کے جانے کے بعد ازمیر بلکل خاموش ہو گیا تھا۔۔ داور کے کیے گئے وعدے کو وہ آج بھی پورا کر رہا تھا جب واپس جاتا سب سے پہلے داور کے گھر جاتا۔۔ اسنے شادی بھی داور کے ماں باپ کے کہنے پر کی تھی جب اسکے گھر بیٹا پیدا ہوا اسنے اسکا نام بنا سوچے سمجھے داور رکھا تھا۔۔ وہ آج بلکل تنہا تھا اسکا خوشی غمی میں ساتھ دینے والا دوست نہ رہا تھا۔۔ بہت تیز نکلا تو داور دوست کو تنہا چھوڑ گیا۔۔ مجھے بھی ساتھ لے جاتا یار تیرے بغیر زندگی زندگی نہیں لگتی۔۔ اسنے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا ایک آنسو کا قطرہ اسکی آنکھوں سے گر کر بہہ گیا۔۔
i miss you yar...i miss you my lion..!
وہ ہنوز آسمان کو دیکھے بول رہا تھا ۔۔

عہدِ شہیدStories to obsess over. Discover now