شاہد اور مشہود کی مقدس آنکھیں

55 4 4
                                        

آنکھیں ہی روح کا دروازہ ہیں۔۔ یہ امر شناس ہیں ۔ ۔جب کوئی نومولود پیدا ہوتا ہے تو انسان پہلے اسکی آنکھوں میں جھانک کر اسکی معصوم روح کو دیکھتا ہے جو خالی ہوتی ہے اچھائی اور برائی کے فرق سے پاک ہوتی ہے, جس پر دنیا ابھی تک اثرانداز نہیں ہوئی ہوتی۔ انسانی آنکھوں کا اس دنیا میں کھلنے کے بعد پہلا کام رونا ہے اور آنسو ہی درحقیقت پاکیزگی اور جاگتے ضمیر کا ثبوت ہیں ۔ آنسو کا جاری ہو جانا ہی رب کی رحمت کا ثبوت ہیں ۔ آنسو آنکھوں کو پاک رکھتے ہیں ۔ اور پھر ان خالی آنکھوں کو سفر پر روانہ کر دیا جاتا ہے۔ آنکھیں نظارے دیکھتی جاتی ہیں اور منظر محفوظ کرتی جاتی ہیں ۔
۔
معاشرے یا کسی قوم میں رونے والی آنکھیں کم ہو جائیں تو ان پر قحط نازل ہو جاتا ہے ۔ قطرہ قطرہ کر کے سمندر بنتا ہے قطرہ بذات خود سمندر ہے اور انسان کا آنسو بھی تو پانی ہی ہے اور جب آنسو بہنا بند ہو جائے تو نظام قدرت اور روحانی معاملات میں انسان کو بہت سی محرومیوں کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔

انسانی آنکھیں غمگین ہوتی ہیں, خوش ہوتی ہے , نورانی بھی ہوتی ہیں , ناری بھی ہوتی ہیں , حیوانی بھی ہوتی ہیں , شیطانی بھی ہوتی ہیں, معصوم بھی , اندھی بھی , انسانوں کی بھیڑ میں موجود بھی کبھی لاموجود بھی, اور کبھی تنہائی میں خیالوں کے میلے لوٹنے چلی جاتی ہیں۔

انسانی آنکھیں کبھی ظاہر دیکھتی ہیں اور کبھی باطن میں غوطہ زن ہوتی ہیں ۔۔۔ بیٹھے بیٹھے کئی منظر آنکھوں کے سامنے سے گزر جاتے ہیں اور ہم اپنے آپکو اسکا حصہ محسوس کرتے ہیں ۔۔۔ انسانی آنکھ سفر میں رہتی ہے اک لامحدود سفر۔۔ بہت زیادہ سفر کر کے آنکھیں تھک جائیں تو خودبخود بند ہونے لگتی ہیں ۔۔۔
آنکھوں کا کھل جانا نیند اور موت دونوں کو پامال کرتا ہے۔
آنکھوں والے جانتے ہیں کے شاہد اور مشہود کی آنکھیں الگ نہیں ہیں ۔۔۔!
آنکھیں خواب دیکھتی ہیں, کائناتی سفر کے بےشمار میڈیم ہیں اور خواب ان میں سے ایک کائناتی میڈیم ہے اور خوابوں کی دنیا میں بھی لامحدود منظر ۔ باطن کی آنکھ کھلی ہو تو خواب پر دسترس ہوتی ہے ورنہ خواب آپ پر سوار ہوتا ہے۔ سوئی ہوئی آنکھ ازلی نور کی تاب نہیں لا سکتی ۔۔۔ خواب ایک سواری ہے اور اس پر سوار ہونا لازم ٹہرتا ہے۔۔۔۔
عشق کے نشے میں ڈوبی آنکھیں عجیب آنکھیں ہوتی ہیں ۔ ان آنکھوں کے ملتے ہی دنیا بدل سی جاتی ہے کبھی یہ موت کا پتہ بھی دیتی ہیں نظر ملانے والے کا دل مدھم سا ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ لامحدود کیفیات کا اظہار کرتی ہیں اور نت نئی کیفیات کو ابھارتی رہتی ہیں ۔
آنکھیں سب کچھ دیکھ سکتی ہیں فقط اپنا ہی چہرہ نہیں دیکھ سکتی ۔ خود کو دیکھنے کے لیے آئینہ یا پھر محبوب کی آنکھیں درکار ہیں ۔ محبوب کا چہرہ اپنا ہی چہرہ ہے۔
آنکھیں محبت والے لوگوں کے لیئے ہر وقت انعام ہیں ۔
اور مایوس لوگوں کے لیے ہر پل عذاب ۔۔۔۔۔!

حارث علی خان

You've reached the end of published parts.

⏰ Last updated: Apr 20, 2020 ⏰

Add this story to your Library to get notified about new parts!

آنکھیںStories to obsess over. Discover now