Episode 1🕊

229 2 0
                                        

اک لفظ عشق
قسط نمبر 1
اريج شاہ
°°°°°°°°
وہ رو رہی تھی ہر رات کی طرح آج بھی۔۔۔۔۔" رات کے تین بج رہے تھے،وہ تہجد کی نماز پڑھتی تھی۔ کیونکہ تہجد کی نماز پڑھنے والے کے سارے گناہ معاف کئے جاتے ہیں۔
ہو سکتا ہے اس کا گناہ بھی قابل معافی بن جائے اور اس کو بھی معافی مل جائے۔تین سال سے ہر رات اس نے اپنے رب کے سامنے رو رو کر اپنے لیے دعا مانگی تھی۔
ہر رات وہ روتی تھی، اپنے رب کے سامنے اپنی کی گئی غلطی کی معافی مانگتی تھی۔وہ جانتی تھی کہ وہ اس قابل نہیں ہے کہ اسے معاف کیا جا سکے۔لیکن اسے اپنے رب پر یقین تھا۔
کہ وہ اسے اس کے اپنوں کے دل میں اس کے لئے تھوڑا سا رحم ڈال دے گا۔
شاید اتنا کہ وہ اسے دیکھ کر منہ نہ پھیریں۔۔۔"
وہ اس شخص سے بے حد محبت کرتی تھی۔ جس نے اسے زندگی کی ہر خوشی دی تھی وہ رات رات بھر جاکر کام کرتا تھا۔ تاکہ اس کی ہر خواہش کو پورا کر سکے اس نے میڈیکل میں ایڈمیشن لینا تھا۔اس نے اپنی اوقات سے بڑھ کر اس کی خواہش کا احترام کیا۔
مگر اس نے اس شخص کو دھوکہ دے دیا۔
دھوکا۔۔۔۔"
دھوکا ہی تو تھا۔غلطی جرم گناہ تین سال سے وہ ہمت جمع کر رہی تھی۔
کہ کیسے وہ شخص کا سامنا کرے گی ،کیا وہ اسی دیکھنا پسند کرے گا۔۔۔۔!!اس سے ویسی ہی محبت کرے گا کیا۔۔۔۔!!وہ اسے اپنے سینے سے لگائیے گا۔۔۔!!جسے ہمیشہ لگاتا تھا۔۔۔!!
یا اللہ مجھے معاف کر دے مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئی ہےاے اللہ میں گناہگار ہوں مجھے آپ کی ضرورت ہے۔ اللہ مجھے، مجھے ہمت دے کہ میں اپنے آپنوں کا سامنا کر سکوں۔ وہ رو رہی تھی تین سال سے ہر رات دعا مانگ رہی تھی۔ کیونکہ وہ بس اتنا ہی کر سکتی تھی۔
°°°°°°°
اس کے بیڈ کی دوسری سائیڈ خالی تھی اس کا دو ماہ کا بیٹاسعد اس کے ساتھ ہی سو رہا تھا۔مہراج جانتا تھا کہ وہ اس وقت کہاں ہے اس وقت وہ ہمیشہ کی طرح باہر لان میں نماز پڑھ رہی ہوگی۔ یہ کوئی نئی بات نہیں تھی وہ ہمیشہ سے تہجد کی نماز ضرور پڑھتی تھی۔ کیونکہ
تہجد کی نماز اسے سکون دیتی تھی وہ جانتا تھا کہ اس گناہ میں وہ اکیلی نہیں ہے وہ بھی شریک تھا۔ مگر پھر بھی وہ احساس جرم کا اتنا شکار نہیں تھا کہ اپنے آپ کو اگنور کر دے۔
وہ جانتا تھا کہ اس وقت اس کی جان سے پیاری بیوی نے رو رو کر اپنی آنکھوں کا حشر کر لیا ہوگا۔وہ کبھی سمجھ نہیں پایا تھا۔
کہ وہ اس کو اس احساس جرم سے کیسے باہر نکالے۔۔۔۔۔!!وہ ہر کوشش تو کر چکا تھا محبت، غصہ، ہر طریقہ جس سے وہ اسے سمجھا سکتا
لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔اب بس وہ اپنا غم خود تک رکھتی یا صرف اللہ سے کہتی تھی۔یہ اس کے بس میں تھا۔وہ محبت کرتا تھا اس سے حد سے زیادہ اس کے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا تھا۔
وہ تو اسے اس کیفیت سے نکالنے کےلیے معافی بھی مانگ چکا تھا۔لیکن وہ کہتی تھی کہ جتنی غلطی آپ کی تھی اتنی ہی غلطی میری بھی تھی۔
آیت کی بات سے مہراج کا احساس جرم تو کم ہو گیا تھا لیکن آیت کا احساس جرم بھرتا جا رہا تھا۔
مہراج نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی تھی کہ ہماری فیملی ہے ہمارا ایک بچہ ہے۔
جس کے بعد آیت نے مہراج سے اس موضوع پر بات کرنا چھوڑ دیا تھا۔
اب مہراج کو نیند نہیں آنی تھی اس لئے اس نے کمبل ایک طرف پھینکا اور باہر نکل گیا۔
°°°°°°°
دعا مانگنے کے بعد اس نے جیسے ہی اپنی سائیڈ میں دیکھا تو وہ گھٹنوں کے بل بیٹھا اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔مہراج اسے دیکھتے ہی مسکرایا
اتنی لمبی دعا میں میں بھی شامل ہوں کہ نہیں ۔۔۔۔؟ نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے پوچھا
میرے سب عزیز شامل ہیں۔وہ مسکرا دیں بھیگی آنکھوں سے۔
ہاں سب عزیز جن میں ،میں سب سے آخر میں آتا ہوں۔وہ کوئی شکوہ نہیں کر رہا تھا۔
کیونکہ وہ آیت کو کوئی تکلیف نہیں دے سکتا تھا۔
نہیں اب ایسی بھی کوئی بات نہیں آپ کیوں آئے میں بس آنے ہی والی تھی اس نے بات بدلی۔
کافی دیر سے انتظار کر رہا تھا تم نہیں آئی تو میں نے سوچا میں بھی دیکھ لوں۔
چلیں اب سونے صبح مجھے بہت ضروری میٹنگ میں جانا ہے۔وہ اسے اپنے ساتھ لیے کمرے میں آیا
وہ اکثر رات میں جاگ جاتا تھا اور اسے اندر نہ پاکر باہر آجاتا آیت جانتی تھی کہ وہ اس کی نمازِ تہجد سے باخبر ہے۔
اسکے ساتھ بیڈ پر لیٹتے ہوئے آیت نے اس کے سینے پر سر رکھ کر آنکھیں موند لیں۔کچھ ہی دیر میں آیت بے خبر اس کی باہوں میں سو رہی تھی۔
لیکن وہ ہمیشہ کی طرح آج بھی نہیں سویا آیت کی سرخ آنکھوں نے اسے بے چین کیا تھا۔
°°°°°°°
سلمان صاحب نے فیصلہ کر لیا تھا کہ سالار سے اس کی شادی کے بارے میں بات ضرور کریں گے۔وہ 29 سال کا ہونے والا تھا وکالت کر چکا تھا
وکالت کرنے کے بعد بھی اس میں اپنا خاندانی بزنس ہی سنبھالا تھا۔
کیونکہ سلمان صاحب دل کے مریض تھے اور کروڑوں کی جائیداد ورکرز کے حوالے نہیں کر سکتے تھے۔اس لیے پڑھائی کے دوران ہی سالار کو بتا چکے تھے کہ وہ چاہے کچھ بھی کرلے کرنا اس کو بزنس ہی ہوگا۔
اور شاید یہ پہلی بات تھی جو ان کے اکلوتے بیٹے نے مانی تھی۔اب وہ چاہتے تھے سالار شادی کرلے اور اپنا گھر بسائے۔
لیکن کسی کی بات ماننا اس نے کبھی سیکھا ہی نہیں تھاخاص طور پر مسٹر اور مسز سلمان کی،سالار کی سرگرمیاں کچھ اور ہی تھی اس کی اپنی زندگی کی ایک روٹین تھی۔وہ شراب پیتا تھا سگریٹ پیتا تھا۔اور کبھی کبھار جوابھی کھیلتا تھا
۔یہ سب باتیں اس کے لئے کوئی بری عادت نہ تھی
وہ بے شک ایک بہت خوبصورت مرد تھا۔وہ جہاں بھی جاتا لڑکیوں کی ایک لمبی لائن اس کے انتظار میں ملتی۔لڑکیاں خود اس کا انتظار کرتی
وہ ان سب میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتا اور وقت گزارتا۔وہ خود سے کسی لڑکی کے پاس نہیں جاتا تھا۔کیوں کہ اس کی کبھی ضرورت ہی پیش نہ آئی تھی۔خوبصورت سے خوبصورت ترین لڑکی اس کے قدموں میں ڈھیر ہونے کو تیار رہتی
وہ ضدی تھا حد سے بڑھ کر ضدی۔
وہ جو چیز چاہتا اس کو حاصل کرنا اس کا مقصد بن جاتاوہ جس چیز پہ ہاتھ رکھتا وہ اس کی ملکیت ہوتی۔اس کی زندگی میں 'نہیں' لفظ کا کبھی استعمال نہیں ہوا تھا۔
وہ بزنس نہیں کرتا اگر اس کا دوست احمد اسے نہیں کہتا۔سالار کے بس کی بات ہی نہیں بزنس کرنا۔سالار کے غصے اور ضد نےسلمان صاحب کے بزنس کو پانچ سال میں دبئی اور کویت میں پھیلایا تھا اور اب ان کا بزنس ترکی میں بھی پھیل رہا تھا۔سلمان صاحب کو اپنے اکلوتے بیٹے پر بہت فخر تھا۔لیکن وہ اس کے لیے پریشان رہتے تھے۔
°°°°°°°
سیرت سے کہو چلے مجھے دیر ہو رہی ہے حاشر نے گاڑی کی چابی اٹھاتے ہوئے کہا۔
جی آرہی ہے آج اس کا رزلٹ ہے نا اس لئے ڈری ہوئی ہے منت نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ہاں میں جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ ڈری ہوئی ہوگی۔وہ مصروف سا بولا
خیر اچھے نمبروں سے پاس ہو گئی تو یہاں کے کالج میں ایڈمشن آسانی سے مل جائے گا۔حاشر نے سوچتے ہوئے بتایا۔
لیکن وہ تو آگے میڈیکل میں ایڈمیشن۔۔۔۔۔منت کی بات حاشر کے ہاتھ کے اشارے سے رک گئی
میں فیصلہ کر چکا ہوں۔بہت اچھا کالج ہے اور اس میں صرف لڑکیاں پڑھتی ہیں۔
آپ کو اپنی بہن پہ یقین کرنا چاہیے حاشر منت یہ نہیں کہنا چاہتی تھی۔مگر پھر بھی خود کو روک نہیں پائی۔
بھائی میں تیار ہوں چلیں سفید یونیفارم میں بڑی سی کالی چادر لیے وہ تیار کھڑی تھی۔حاشر منت سے کچھ کہتے کہتے رک گیا۔
منت جانتی تھی کہ وہ کیا کہنے والا ہے لیکن اس نے کہا کچھ نہیں تھا دروازے سے باہر نکل گیا
بھابھی وش می۔۔۔۔"سیرت نے منت کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔
تم بیکار میں ڈر رہی ہو گڑیا تمہارا رزلٹ بیسٹ ہوگا ان شاء اللہ۔۔۔۔"
ان شاءاللہ ۔۔۔۔"بس آپ کی دعائیں چاہیےبھابھی
اگر +A رزلٹ آیا تو میڈیکل کالج میں ایڈمیشن مل جائے گا۔سیرت کی بات سن کر منت کے مسکراتے لب بھینچ گئے۔وہ اس وقت اسے یہ نہیں بتانا چاہتی تھی کہ جس میڈیکل میں ایڈمیشن لینے کے لئے اس نے دن رات ایک کی ہے۔حاشر اس کا داخلہ وہاں ہونے ہی نہیں دے گا۔
°°°°°°°
چلو یار ایسے ہی ڈرتی رہو گی تو ہمیں رزلٹ کا پتہ ہی نہیں چلے گا۔شکر ہے کہ آج جونیئرکالج سے ہماری جان چھوٹ جائے گی۔حنا نے سیرت کو گھسیٹنے کی ایک اور ناکام کوشش کی۔
بس یار پانچ منٹ میں چلتے ہیں آیت الکرسی دعائیں علم اور پتا نہیں کیا کیا۔دن رات ایک کرنے کے بعد سیرت آج رزلٹ والے دن آیتوں اور درودوں کا ورد کر رہی تھی۔
کیوں کہ اے پلس لانے اور میڈیکل کالج میں ایڈمیشن لینے کے لئے اب دعاکےعلاوہ وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ اس لئے صبح نو بجے سے دوپہر 1بجے تک وہ آیتیں پڑھنے میں مصروف تھی ہر کوئی اپنا اپنا رزلٹ دیکھ کر آیا تھا ۔مگرحنا کو وہ ہلنے نہیں دے رہی تھی صبح سے وہ کلاس روم میں بیٹھی تھی حنا کو اپنے نمبروں سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا نمبرز کم ہو یا زیادہ اس کو تو بس یہ کالج چھوڑنا تھا ۔کیوں کے ایک ہی سفید یونیفارم اور صبح آٹھ بجے کی اسمبلی سے وہ تنگ آ چکی تھی۔
بس اب میں جارہی ہوں حنا کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔
نہیں نہیں صرف 5 منٹ اور سیرت نے التجا کی۔
میڈم آپ کے پانچ منٹ ختم نہیں ہو رہے میں تمہارا رزلٹ نہیں دیکھوں گی بس اپنا دیکھ کے آ جاؤں گی اس سے پہلے کہ سیرت اس کی مزید منتیں کرتی۔ وہ کلاس روم سے باہر نکل گئی اور نا چاہتے ہوئے بھی سیرت کو اس کے پیچھے آنا پڑا۔
آفس کے باہر لگا گرین بورڈسب کا حال سنا رہا تھاکوئی خوش تھا تو کوئی اداس کوئی پارٹی پلان کر رہا تھا کوئی آنسو بہا رہا تھا۔
لیکن سیرت کو سب کے چہرے روتے ہوئے ہی نظر آ رہے تھےحنا رزلٹ چیک کر رہی تھی جبکہ سیرت اس کا ہاتھ تھامیں آنکھیں بند کیے کھڑی تھی۔
حنا اس کے حال سے اچھی طرح سے واقف تھی یہ ہر سال ہوتا تھاوہ ہمیشہ فرسٹ آتی تھی مگر اس کا ڈر اسے ہمیشہ خوفزدہ رکھتا۔
پچھلے سال جب حنا نے اس کا رزلٹ چیک کر اس کو بتایا کہ وہ فرسٹ آئی ہے توخوف کی وجہ سے سیرت کپکپانے لگی۔
جس کی وجہ سے حنا کو خوشی منانے سے زیادہ اسے ہسپتال لے جانے کی فکر ہونے لگی۔
اب وہ یہ رسک نہیں لے سکتی تھی اس لئے اس نے آرام سے اس کے کان کے قریب جا کر کہا ۔مبارک ہو فیوچر ڈاکٹر +A فرسٹ پوزیشن ۔۔۔'اس کی بات سن کربے یقینی سے سیرت کی آنکھوں میں آنسو آگئے
حنا نے اپنی جان سے پیاری سہیلی کو گلے لگایا۔
°°°°°°°
آیت کوئی بچہ ایسے گلا پھاڑ پھاڑ کے نہیں روتا
آج مہراج کو چھٹی تھی اس لئے وہ سعد‎ کو سنبھال رہا تھا۔
بچے ایسے ہی روتے ہیں وہ بنا پلٹے بولی۔
آیت پودوں کی جگہ تبدیل کر رہی تھی اسے‎
سعد کو چپ کرواتے دیکھ کر ہنسنے لگی۔
آیت یار میں سوچ رہا ہوں کہ لوگ اپنے بچوں کو پہلے ہنسنا اور بولنا سکھاتے ہیں لیکن ہمیں اسے پہلے رونا سکھانا ہوگا۔بہت خراب روتا ہے پورا منہ کھول کرمہراج جانے کب سے اسے چپ کرانے کی کوشش کر رہا تھا مگر وہ روتا ہی جا رہا تھا
غلطی بھی اس کی اپنی تھی۔
آیت4 سے5 ماہ سے کہہ رہی تھی کہ پودوں کی صفائی کرنی ہے مگر وقت نہیں ملتا۔جس پر مہراج نے کہہ دیا آیت سارا دن کرتی کیا ہو۔۔۔؟
آیت نے کہا میں آپکا بچہ سنبھالتی ہوں۔
،جس کے بعد مہتاج کا جواب تھا ۔یہ کوئی کاموں میں کام ہے اتنا آسان ہے مہراج کا انداز دیکھ کر وہ اسے گھورنے لگی۔
اور دوسری غلطی یہ کہ مہراج کو یاد نہیں رہا کہ کل اتوار ہےپھر کیا مہراج دنیا کا آسان ترین کام یعنی بچہ سنبھالنا کر رہا تھا۔اور آیت پودوں کی صفائی کر رہی تھی۔
یہ نہیں تھا کہ مہراج کو اسے سمبھالنا نہیں آتا وہ آ کر اکثر اسے سنبھالتا تھا۔اسے پیار کرنا اسے فیڈ کرواتے وقت فیڈر کی بوتل تک تھامیں رکھتا تھا۔مگر وہ اس کے دن کی روٹین سے ٹھیک سے واقف نہ تھا۔اب وہ کچن میں اس کا دودھ بنا رہا تھا اور دوسرے ہاتھ سے اسے سنبھالنے کی کوشش بھی کر رہا تھا۔
یارآیت یہ بالکل تم پہ گیا ہے۔وہ تنگ آ کر بولا تو اس بات سے آیت کو جھٹکا لگا۔
کیونکہ یہ بات آج دو ماہ میں پہلی بار کہی گئی تھی
آج تک تو یہ آپ پر تھا اس کا ناک آنکھیں کان
ہونٹ سب آپ کے تھے تو آج یہ اچانک مجھ پہ کیسے چلا گیا۔۔۔ ؟
ہاں اس ہینڈسم کی شکل تو مجھ پہ ہے میں تو روتی شکل کی بات کر رہا ہوں۔
کیا کہا میں ہر وقت روتی شکل بنا کے گھومتی ہوں وہ ایک جھٹکے سے مڑی۔۔۔۔۔۔"
نہیں۔۔۔۔ نہیں میں۔۔۔۔ اور آپ۔۔۔ کو "روتی شکل"۔۔۔۔۔ نہ نہ میں ۔۔۔ایسا کرسکتا ہوں کیا۔۔۔۔۔؟
اس نے ڈرنے کی بھرپور ایکٹنگ کی جسے دیکھ کر وہ ہمیشہ کی طرح ہنسی تھی۔اور یہی ہنسی تو مہراج کی جنت تھی۔
°°°°°°°
وہ رات ڈھائی بجے کے بعد آیا تو صوفے پہ باپ کو دیکھ کر رک گیا۔
ڈیڈ آپ ٹھیک ہیں ابھی تک سوئے نہیں سالار نے ان کے پاس آتے پوچھا۔
میں نے آفس میں پیغام پہنچایا تھا کہ تم شام کو گھر جلدی آنا لگتا ہے تمہیں ملا نہیں۔سلمان صاحب نے اس کی بات کو اگنور کرتے ہوئے کہا۔
نہیں مجھے میسج ملا تھا لیکن میں بزی تھا۔سالار نے انہیں کے انداز میں جواب دیا۔
بیٹھویہاں مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے انہوں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
جی کہیں سن رہا ہوں سالار نے ٹانگ پہ ٹانگ جماتے ہوئے پوچھا۔
میں نے تمہاری شادی کا فیصلہ کر لیا ہے انہوں نے بات کا آغاز کیا۔
یہ فیصلہ میں خود کر لوں گا ڈیڈ آپ کو ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں۔جب مجھے کوئی لڑکی شادی کے لائق لگے گی تو کر لوں گا اس نے اٹھتے ہوئے کہا۔
اور کوئی بات ہے یا بس یہی کہنے کے لئے میرا انتظار کر رہے تھے۔
سالار میں سیریس ہوں۔۔۔۔۔" انہوں نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا۔میں تمہاری شادی کرنا چاہتا ہوں اپنے پوتے پوتیوں کو دیکھنا چاہتا ہوں۔سالار میرے مرنے سے پہلے میری یہ خواہش پوری کر دو۔وہ ایموشنل ہوئے۔
آپ کو میری شکل سے لگ رہا ہے کہ میں مذاق کر رہا ہوں اینڈ پلیز مرنے سے پہلے میں والا ڈرامہ بند کردیں۔مجھ پہ یہ ایموشنل ڈرامے نہیں چلتے میں کوئی شارٹ فلم کا تھرڈ کلاس ایکٹر نہیں جو آپ کے اس ڈائیلاگ پر جذباتی ہو کر آپ کے پیروں میں بیٹھ جاؤں گا ۔اور ایک اور بات دو تین بجے تک میرا ویٹ نہ کیا کریں میرا فون ہر وقت آن ہوتا ہے۔آپ یہ بات فون پر بھی کرسکتے ہیں وہاں بھی میرا یہی جواب ہوگا ۔گڈنائٹ۔۔۔۔"وہ یہ کہتے ہوئے سیڑھیاں پھلانگ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔
اور سلمان صاحب اسے دیکھتے رہ گئے۔اپنے بیٹے کی بدتمیزی اور تلخ لہجہ برداشت کرتے انہیں کہیں سال گزر چکے تھے۔
یہ اندازبرداشت کرنا ان کے لیے مشکل نہ تھا
انہوں نے ہمیشہ اسے گنور کیا اس کے ساتھ باپ جیسا رویہ نہ رکھ سکے۔
اس کے ساتھ وقت نہیں گزار سکیں جس سے سالار ان سے دور ہوتا چلا گیا۔وہ یہ بات محسوس نہ کر سکے مگر اس بات کا احساس ہونے تب ہوا جب سالار نے انہیں اگنور کرنا سیکھ لیا۔
°°°°°°°
وہ تو بہت خوش تھی کہ اس کی محنت رنگ لائی اور اب اپنی خواہش پوری کرے گی۔مگر یہاں سب کچھ الٹا ہی ہو گیا دو گھنٹے سے مسلسل بھائی کے کمرے سے لڑائی کی آوازیں آ رہی تھی وہ اپنے بھائی سے ڈرتے ہوئے اپنے کمرے کی الماری کے پیچھے بنی ہوئی تھوڑی سی جگہ پر بیٹھی تھی۔
جیسے اس کا بھائی اسے ڈھونڈ رہا ہو۔۔۔۔"
کیوں کر رہے ہیں آپ اس کے ساتھ یہ سب کچھ آپ کی بہن ہے آپ کو اس پر یقین کرنا چاہیے حاشر ۔۔۔۔"اور آپ اسے اس طرح سے ٹریٹ کررہے ہیں کل کو وہ دنیا کو کیسے فیس کرے گی۔
ویسےبھی سب سے ڈری ڈری رہتی ہے ملتی نہیں کسی سے بات نہیں کرتی کسی سے ہمیشہ اپنے کمرے میں بند رہتی ہے۔اور ایف ایس سی میں ٹاپ کر کے بھی اتنی ہمت نہیں رکھتی کہ کسی سے کھول کر بات کر سکے ۔وہ اس کی بھابھی تھی جو اس کے لئے ماؤں کی طرح لڑ رہی تھی
اور دوسری طرف اس کا اپنا سگا بھائی جس کو باپ کی جگہ کھڑا ہونا چاہیے۔لیکن وہ تو بھائی کی جگہ بھی کھڑا ہونے کو تیار نہ تھا۔
آوازیں مسلسل آتی رہی اور نہ جانے وہ کب سوگی
صبح اس کی آنکھ فجر کی اذانوں کے ساتھ کھلی
اور وہ یہ قبول کرچکی تھی کہ اب وہ کبھی ڈاکٹر نہیں بن سکتی۔
صبح ناشتے کے میز پر سوجی آنکھیں لیے وہ بیٹھی رہی اور حاشر اسے مسلسل دیکھتا رہا وہ جانتا تھا کہ وہ میڈیکل میں اپنے بھائی کی خواہش کے لیے دن رات ایک کر رہی ہے مگر اب وہی بھائی اس کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ تھا۔
میں میڈیکل کالج میں تمہارا ایڈمیشن کروا دوں گا مگر میری ایک شرط ہے اس کا لہجہ نرم تھا۔
مجھے آپ کی ہر شرط منظور ہے بھائی ۔۔۔۔جو آپ کہیں میں کرونگی۔۔۔۔"اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا لیکن وہ جلدی بولی۔
ٹھیک ہے پھر کچھ دن بعد انکل طارق تمہیں حارث کے نام کی انگوٹھی پہنا کر جائیں گےاور دو ماہ بعد تمہارا نکاح ہوگا اور شادی میڈیکل کے بعد۔حاشر نے پرسکون انداز میں کہا۔
جبکہ منت اور سیرت اس کا منہ دیکھتی رہ گئیں۔
°°°°°°°
مہراج نہیں جانتا تھا کہ یہ فلم وہ کتنی سو بار دیکھ چکا ہے۔مگر پھر بھی اسے ہر سنڈے یہی فلم دیکھنے کو ملتی تھی کیونکہ یہ آیت کی فلم پسندیدہ تھی۔یہ بات الگ تھی کے مہراج کو اس فلم میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔
مہراج نے تین سالوں میں جب بھی کوئی فلم دیکھنے کے بارے میں سوچا آیت نے ٹائیٹائمنگ ہی دیکھی مہراج کو یہ فلم رٹ چکی تھی مگر آیت ہر بار ایسے دیکھتی اور ایسے تبصرہ کرتی جیسے پہلی بار دیکھ رہی ہو۔جیسے لڑکی اچھی ایکٹر ہے سین بہت اچھے ہیں۔اینڈنگ سیڈ کیوں ہےاور خاص کر کے ہیرو کتنا ہینڈسم ہے۔باقی سب تو ٹھیک لیکن آیت کا ہیرو کو ہینڈسم کہنا مہراج کو پسند نہیں تھا۔ہیرو کو تو کیا مہراج کو اس کے منہ سے کسی بھی مرد کی تعریف اچھی نہیں لگتی تھی۔
آیت اور مہراج جب بھی یہ فلم ساتھ میں دیکھتے تو فلم کے بولڈ سین آیت آگے کر دیتی
کیونکہ ٹی وی ریموٹ پہ اس کی حکومت شادی کے پہلے دن سے تھی۔سو آج بھی وہ سین کٹ ہو چکا تھا۔
ایک ہی تو سین ہے کام کا اس کو بھی آگے کردیا۔مہراج ہمیشہ کی طرح بدمزا ہوا ۔
جبکہ ادھر ایک ہی پل میں آیت کے گال سرخ ہوئے
گندے آدمی۔۔۔۔۔" آیت نے چیخ کر کہا
کیاکہا میں گندہ آدمی۔۔۔۔ مہراج نےایک زور دار قہقہہ لگا کر آیت کو اپنی طرف کھینچاآیت جو اس کے قریب بیٹھی تھی اپنا توازن برقرار نہ رکھ پائی اور اس کے چوڑے سینے کا حصہ بنی
میری جان اسے گندی نہیں رومینٹک باتیں کہتے ہیں وہ مہراج سے نظریں نہی ملا پا رہی تھی وہ مہراج سے پہلے دن سے ہی ایسے ہی شرماتی تھی
تین سال میں ایک بچے کی پیدائش کے بعد بھی آیت مہراج سے روز اول کی طرح شرماتی تھی
اور شاید یہ بھی ایک وجہ تھی۔جو ہر دن کے ساتھ مہراج کی آیت سے محبت بڑھتی جا رہی تھی۔
°°°°°°°
وہ نہا کر نکلا تھا انہیں اپنے کمرے میں دیکھ کر غصے سے گھور کر رہ گیا
آپ کی ہمت کیسے ہوئی میرے کمرے میں آنے کی کس کی اجازت سے آپ یہاں آئیں کتنی بار کہا ہے کہ میرے سامنے نہ آیا کریں۔ لیکن آپ کو شاید میری بات سمجھ نہیں آتی وہ بدتمیزی کی انتہا کر گیا تھا۔
مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی تھی بیٹا۔۔۔۔۔۔"
خبردار جو مجھے بیٹا کہہ کے پکارا یا کبھی مخاطب کرنے کی کوشش بھی کی اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی سالار نے غصے میں ان کی بات کاٹی۔
بیٹا نہیں ہوں میں آپ کا سمجھیں آپ اب میری شکل دیکھنا بند کریں اور نکلیں میرے کمرے سے سالار کا بس نہیں چل رہا تھا کہ انہیں دھکے مار کر اپنے کمرے سے باہر نکالے سالار کی بدتمیزی پر ان کی آنکھیں بھر آئیں اور وہ روتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئیں۔
اپنے کمرے میں آتے ہوئے انہوں نے آنکھیں صاف کیں کیونکہ وہ سلمان صاحب کو ان کے بیٹے کی بدتمیزی کے بارے میں نہیں بتانا چاہتی تھیں۔ لیکن پھر بھی ان کی آنکھیں سب بیان کر گئیں۔ کیا ہوا اس نے کمرے سے نکال دیا۔۔۔۔؟
میں اس کو آپ کے طبیعت کی خرابی کے بارے میں بتانا چاہتی تھی لیکن اس نے مجھے بات کرنے کا موقع نہیں دیا ۔
کوئی ضرورت نہیں ہے تمہیں اسے میری طبیعت کے بارے میں کچھ بھی بتانے کی سلمان صاحب نے کہا۔
آپ آخر سمجھتے کیوں نہیں سلمان آپ کی طبیعت دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ آپ کو لندن جاکر علاج کروانا ہوگا اور آپ کا بیٹا کیا اس کو آپ کی حالت نظر نہیں آ رہی اب وہ شکوہ کر رہی تھیں۔
آتی ہے نظر مگر وہ سالارہے نظرانداز کرنے میں ماہر ہے وہ مسکراتے ہوئے بولے جیسے ان کا بیٹا بہت فخریہ کام کر رہا ہو۔
لیکن سلمان وہ غلط کر رہا ہے اب وہ رونے لگی۔ اور جو ہم نے کیا وہ صحیح تھا ۔۔۔۔؟وہ سمجھانے والے انداز میں بولے
لیکن وہ کچھ نہیں سمجھنا چاہتی تھی وہ بس اپنے شوہر کی زندگی چاہتی تھیں اور اس کے لیے وہ پھرسے اپنی بےعزتی کروانے کو بھی تیار تھیں
°°°°°°°
وہ حسین لگ رہی تھی گلابی رنگ کی فینسی فراک میں گلابی چوڑیوں سے سجی کلائیاں آنکھوں میں لگا کاجل چہرے پر پھیلی سرخی مہندی سے بھرپور ہاتھ اورہاتھ کی تیسری انگلی میں حارث کے نام کی انگوٹھی وہ بلاشبہ بے حد حسین تھی۔
اور وہ خوش بھی تھی کیونکہ اس کا بھائی خوش تھا ۔۔۔۔۔" خوش تھا یا شاید خوشی سے پاگل ہو رہا تھا آج صرف اس کی منگنی تھی لیکن تیاری اس طرح سے کی گئی تھی کہ جیسے یہاں پہ کوئی شادی ہو طارق انکل نے صاف صاف کہ دیا تھا وہ جتنا چاہے پڑھ سکتی ہے دو ماہ بعد اسکا نکاح تھا۔
اور پھر دو سال بعد شادی طارق انکل نے کہا تھا کہ وہ لندن میں اس کا ایڈمیشن کروائیں گے وہاں وہ اپنی میڈیکل کمپلیٹ کر سکتی ہے اس کے بھائی نے اس کے لیے بالکل صحیح فیصلہ کیا تھا۔
منگنی سے پہلے حاشر نے اس سے بہت بار پوچھا۔
دیکھو گڑیا اگر تمیں کوئی پسند ہے تو تم مجھے بتا سکتی ہو میں تمہاری شادی وہی کروں گا جہاں تم کہو گی لیکن اس نے ہر بار یہی کہا کہ وہ حاشر کے فیصلے سے بہت خوش ہے۔ اسے کوئی پسند نہ تھا اور اگر کوئی ہوتا تو شاید وہ آج حاشر کی خوشی کے آگے اسے چھوڑ دیتی آج سارا دن حاشر کے چہرے پر مسکراہٹ ایک سیکنڈ کے لئے بھی غائب نہ ہوئی۔
تم نے مہندی نہیں لگائی سب مہمانوں کے جانے کے بعد حاشر نے منت سے پوچھا۔
آپ نے دیکھا ہی نہیں یہ دیکھیں منت نے دونوں ہاتھ حاشر کے آگے پھیلائے جو حاشر نے تھام لئے ہاں مہندی تو لگائی لیکن میرا نام تو کہیں نہیں ہے ہتھیلی کے بیچ میں صاف نظر آتے ہوئے اپنے نام کو نظرانداز کرتے ہوئے وہ شرارت سے بولا۔
ارے یہ دیکھیں نہ ۔۔۔۔اگر ہاتھ حاشر کے ہاتھ میں نہ ہوتے تو وہ شاید انگلی کی مدد سے بھی بتاتی ۔
کہاں مجھے نظر نہیں آرہا بتاؤ نہ منت کا سارا دھیان اپنے ہاتھوں پر تھا اس لیے اس کی آنکھوں کی شرارت دیکھ نہیں پائی۔
ہاتھ چھوڑیں میں دکھاتی ہوں وہ ہاتھ دیکھتے ہوئے بولی کیونکہ اس کے ہاتھوں پر حاشر کی گرفت سخت ہو رہی تھی۔
نہ ہاتھ تو نہیں چھوٹے گے آج حاشر نے اس کے ہاتھوں کو چومتے ہوئے کہاتو منت نے حیرت سے اسے دیکھا وہ مسکرا رہا تھا۔
اس کی مسکراہٹ پر منت کوجسے اس کا پرانا حاشر مل گیا۔ جس کے سینے پر اس نے اپنا سر رکھ دیاتھا۔وہ اسے اپنی باہوں میں قید کرتا خود میں سمٹ گیا۔
°°°°°°°

Ek Lazf Ishq by Areej ShahStories to obsess over. Discover now