Chapter 4 🌈

468 158 35
                                    

لڑکیوں جلدی سے تیار ہو جاؤ ..... میں بس یہ ختم کرنے
والا ہوں... ویسے تو آنٹی کے ہاتھ کے مزید پراٹھے کھانے کا بڑا دل کر رہا ہے...

اتنے میں طوبا کھٹاک سے چین سے باہر نکل گئی...

چلو آشیہ فیصل فوراً اٹھ کھڑا ہوا... اس کے چہرے پر ناگواری صاف جھلک رہی تھی۔

آپ لوگ جائیں میں آج چُھّٹی کر رہی ہوں طوبا نے مشکل سے خود پر قابو پاتے ہوئے بولی۔

اچھا آنٹی اب ہم چلتے ہیں ... اتنے مزیدار پراٹھوں
کے لیے بہت بہت شکریہ !!!
اس نے ہاتھ دھوتے ہوئے ناہید آنٹی کو مخاطب کیا۔...

وہ صرف مسکرا کر سر ہلا سکیں .... وہ بیچاری طوبا کے رویے پر خود نادم تھیں ... جو ان کے روانہ ہوتے ہی ابھی طوبا پر آندھی و طوفان کی طرح برسنےکے لۓ اس کے کمرے میں آئیں...

یہ کیا بد تمیزی تھی؟ تمہیں شرم آنی چاہیے گھر پر آئےلوگوں کے ساتھ ایسا رویہ رکھا جاتا ہے...؟

یہی تو میں پوچھنا چاہتی ہوں یہ سب کیا تھا... آپ اچھی طرح جانتی ہیں... میں مَر کے بھی ان کے ساتھ نہیں جاتی تو وین بند کروانے کی کیا ضرورت تھی؟

تو پیسے درختوں پر نہیں لگتے... دو تین ہزار کی بچت
ہوجاتی .... ویسے بھی سیما بار بار اصرار کر کے کہہ رہی تھی تو مجھے انکار کرنا اچھا نہیں لگا۔۔

جب سے ان کا سٹیٹس اونچا ہوا ہے اب وہ پہلے جیسے
نہیں رہے... آپ کو یاد نہیں پچھلے سال سیما آنٹی
نے آشیہ کا سوٹ مجھے دے دیا تھا ...

(وہ سوٹ آشیہ کو تنگ ہو گیا تھا تو سیما آنٹی نےاٹھا کر طوبا کو دے دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ بہت مہنگا ہے اس نے ایک بار پہنا ہے تم پہن لینا)

تو کیسے نیلوفر کی منگنی پر آشیہ سب کو اِترا اِترا کے بتا رہی تھی کہ طوبا نے میرا سوٹ پہنا ہوا ہے۔

مجھے سو فیصد یقین ہے۔ اس بارے میں اظہر انکل
کو پتا نہیں ہو گا ورنہ وہ بھی کسی سے کم نہیں ہیں
طوبا غصے سے چِڑھ کر ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولی۔۔

ہاں مگر وہ تو آشیہ نے کہا تھا... بعد میں سیما آنٹی نے اسے ڈانٹا بھی تو تھا... امی ان کا دفاع کرتے ہوئے بولیں۔۔

امّی... ایک سیما آنٹی کے کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا...

امّی خدا کے لئے دو - تین ہزار کے لۓ مجھے ذلیل مت کروائیں... یہ بات آپ کو سمجھ کیوں نہیں آرہی...؟

اب میں نے ہاں کر دی ہے تو مجھے کچھ نہیں سُننا...
کل سے تم جا رہی ہو بس !!! امی تیزی سے اپنا فیصلہ سناتی چلی گئیں۔

امی میں اور آشیہ ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں وہ وہاں پر سب کے سامنے مجھے شرمندہ کرتی رہے گی۔ کہ یہ میری کار میں آتی جاتی ہیں۔

پھر میں کبھی نہیں جاؤں گی یونیورسٹی !!! ان کے ساتھ جانے سے بہتر ہے میں اپنی پڑھائی چھوڑ دوں... طوبا نے پیچھے سے اونچی آواز میں کہا :

یہ حادثاتِ محبّت (Completed) ✔✔✔Where stories live. Discover now