TU MERI ZINDAGI HAI (Malisha Rana) COMPLETE NOVEL

1.5K 26 2
                                    

TU MERI ZINDAGI HAI
MALISHA RANA
COMPLETE NOVEL

TU MERI ZINDAGI HAIMALISHA RANACOMPLETE NOVEL

Oops! This image does not follow our content guidelines. To continue publishing, please remove it or upload a different image.

🌹🌹🌹🌹

وہ بہت تیزی سے بھاگ رہی تھی بغیر پیچھے دیکھے بس بھاگے جا رہی تھی کہ اچانک اسے ایک چیخ سنائی دی۔۔۔۔
آ ۔۔۔۔۔اپی
اس نے رک کر کہا اور پلٹ کر پیچھے بھاگی
وہ بھاگ کر آ ئ تو اپنی بہن کو زمین پر خون میں بھرے گرے ھوئے دیکھا۔۔۔۔۔۔
آ پی !!!
آ پی اٹھیں پلیز "
آ آ آ پی !!!
آ پ کو کچھ نہیں ھو گا "
ہم ابھی یہاں سے نکل جائیں گے"
آ پی پلیز آ نکھیں کھولیں "
آ پ سن رہی ھیں کہ میں کیا کہ رہی ھوں"
آ پی اٹھیں نا"
وہ زاروقطار رو کر اپنی بہن کو پکار رہی تھی۔۔۔۔۔
مگر اکھڑی ھوی سانسوں کے علاوہ اسے کوئی
جواب نہیں مل رہا تھا ۔۔۔۔۔
اور پھر ایک آ خری جھٹکا کھا کر اس کی بہن
اسے اکیلا چھوڑ جاتی ھے۔۔۔۔۔
آ پی!!!!
آ پی اٹھیں پلیز "
آ پ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتیں"
میں مر جاؤں گی آ پ کے بغیر"
چھوڑو مجھے "
چھوڑووو !!!
ھاتھ مت لگانا مجھے"
آ پی مدد کریں میری"
اٹھیں نا"
آ پی"
وہ چیخ کر اٹھی اور خود کو پسینے میں شرابور پایا۔۔۔۔۔
یہ خواب اسے پچھلے چھ ماہ سے آ رھا تھا جب سے اس کی بہن کی موت ھوئی تھی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آ پی آ پی"
عیلی نے زور سے دعا کے کمرے کا دروازہ
نوک کر کے کہا۔۔۔۔۔۔
آ جاؤ عیلی"
آ پی"
وہ نا میں نے کھڑکی سے باہر آ سمان میں
کسی بڑی سی چیز کو اڑتے ہوئے دیکھا"
پکا وہ نا جیپر کریپر ھے"
عیلی بھاگ کر بیڈ پر بیٹھ گئی اور دعا
کے ھاتھوں کو زور سے پکڑ کر بولی۔۔۔۔۔
آ ج ان دونوں نے جیپر کریپر مووی دیکھی تھی
جس کی وجہ سے عیلی اب ڈر رہی تھی
وہ ایسی ہی تھی ڈرپوک سی پہلے شوق سے horror movies دیکھتی تھی اور پھر ڈر کر دعا کے ساتھ اس کے کمرے میں سوتی تھی۔۔۔۔۔
"عیلی میں نے کتنی دفعہ کہا ہے تم سے کہ رییل لایف میں ایسا کچھ نہیں ھوتا ھے یہ صرف ایک مووی تھی"
تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے
میری جان"
دعا نے عیلی کے بالوں میں اپنا ھاتھ پھیرتے ہوئے انتہائی محبت سے کہا جبکہ عیلی زور زور سے اپنا سر ناں میں ہلانے لگی۔۔۔۔۔۔
"نہیں آ پی سچ میں آ سمان میں کچھ تھا
اگر میں آ پ کے پاس نہ آ تی تو پکا وہ مجھے لے جاتا اور میری تو ہر چیز ہی پیاری ھے پھر تو وہ مجھے پورا ہی کھا جاتا"
عیلی ابھی بھی اپنی بات پر قائم تھی۔۔۔۔۔۔
اچھا تو کیا اب وہ جیپر کریپر یہاں نہیں آ سکتا
دعا نے مسکرا کر کہا جس پر عیلی بھی مسکرانے لگی۔۔۔۔۔
"نہیں نا
کیوں کہ اب میں آ پ کے پاس ھوں
اور مجھے پورا یقین ہے کہ آ پ مجھے کچھ نہیں ھونے دیں گی
عیلی مسکرا کر بولی اور پھر دعا کو ہگی دے کر سو گئی۔۔۔۔۔۔
جبکہ دعا بھی عیلی کے بالوں کو سہلاتے ہوئے نیند کی وادیوں میں اتر گئی۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
فیصل صاحب کی دو ہی بیٹیاں تھیں
دعا اور اس سےچھ سال چھوٹی علیشہ۔۔۔۔۔
علیشہ صرف دو سال کی تھی جب اس کی ماما فوت ھو گئیں تب سے دعا نے ہی علیشہ کو ایک ماں کی طرح پالا تھا حالانکہ وہ خود ایک بچی تھی۔۔۔۔۔
فیصل صاحب اور دعا نے عیلی کو ہر پریشانی اور تکلیف سے ہمیشہ دور رکھا تھا جس کی وجہ سے وہ مکمل طور پر ان دونوں پر ڈیپنڈ تھی یہاں تک کے عیلی سکول میں بھی دعا کی کلاس میں بیٹھتی تھی وہ بہت ڈرپوک قسم کی لڑکی تھی جسے غیر لوگوں سے خوف آ تا تھا۔۔۔۔۔
یعنی دعا اور فیصل صاحب کے علاوہ باقی سب سے خوف آ تا تھا۔۔۔۔۔۔
سکول کے بعد عیلی نے کالج جانے سے انکار کر دیا اسی وجہ سے وہ گھر میں ہی سمپل ایف اے کر رہی تھی جس کی وجہ سے اسے باہر کی دنیا کا بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ کتنی خطرناک ہے۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
چھوڑو میرے بابا کو !!!
اسرا نے چیخ کر کہا۔۔۔۔
چھوڑ دوں "
"کیسے چھوڑ دو اس دو ٹکے کے ماسٹر کو
تیرے باپ نے اچھا نہیں کیا میرے بھائی کے خلاف رپورٹ درج کروا کے
اس بات کی سزا تو اسے ملے گی
اور ضرور ملے گی"
فہد نے گن نکال کر شرافت صاحب کے سر پر رکھی
جسے دیکھ کر اسرا فہد کے آ گے ھاتھ جوڑنے لگی۔۔۔۔۔
"پلیز بھائی
ایسا مت کریں
ہم رپورٹ واپس لے لیں گے
ہم بھول جائیں گے سب کچھ لیکن پلیز آ پ میرے بابا کو معاف کر دیں"
اسرا زاروقطار رو کر فہد کی منتں کر رہی تھی جبکہ فہد ایک بیزرار سی نظر اسرا پر ڈال کر بولا۔۔۔۔
ٹھیک ہے"
"نہیں کرتا کچھ
لیکن اگر دوبارہ میرے بھائی کے بارے میں کچھ بھی بکواس کی تو تمہارے باپ کے ساتھ تمہیں بھی جان سے مار دوں گا"
فہد نے ہنے جے ساتھ ہی گن واپس اپنی جیکٹ میں ڈالی اور باہر نکل گیا جبکہ اسرا اپنے بابا کے گلے لگ کر رونے لگی۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
فہد اور اسد دو بھائی تھے اسد فہد سے تقریباً 10 سال چھوٹا تھا ۔۔۔۔۔
گھر والوں کی محبت کے علاوہ فہد کی بے پناہ محبت نے اسد کو بہت بگاڑ دیا تھا جس سے وہ نشے کے علاوہ لڑکیوں کے چکر میں بھی پڑ گیا تھا۔۔۔۔
پہلے تو ہر لڑکی خود اسد کے پیسوں کی وجہ سے اس سے دوستی کرتی تھی جس کی وجہ سے وہ ہر کسی لڑکی کو ایک جیسا ہی سمجھنے لگا تھا۔۔۔۔۔
اسرا بھی اسد کے ساتھ یونی میں پڑھتی تھی اور اسد کو وہ پہلی نظر میں ہی اچھی لگی تھی
جب اسد نے اس سے دوستی کرنے کی کوشش کی تو اسرا نے انکار کر دیا کیونکہ اسرا کے گھر کا ماحول اس بات کی اجازت نہیں دیتا تھا اسرا کے انکار نے اسد کو تو مانو پاگل ہی کر دیا جس کی وجہ سے اس نے اسرا کا کڈنیپ کروا کر اس سے اپنا مقصد پورا کیا اور اسے چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔
جبکہ اسرا کے بابا چپ نہ رھے اور اسد کے خلاف پولیس رپورٹ درج کروا دی اور جب اس بات کا فہد کو پتہ چلا تو وہ پہنچ گیا اسرا کے گھر ان سے رپورٹ واپس کروانے کے لیے۔۔۔۔۔۔
وہ ہمیشہ سے اسد کے کارناموں کو چھپاتا آ یا تھا
وہ ایسا ہی تھا اپنے بھائی سے بہت محبت کرنے والا پھر بھلا وہ اپنے بھائی کے بارے میں کوئی بھی بات برداشت کیسے کرتا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

TU MERI ZINDAGI HAI (Malisha Rana) COMPLETE NOVELWhere stories live. Discover now